حدیث تاریخی دستاویز
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴۵
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو انبیا آئے، اُن میں سے کسی کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ خالص علمی اعتبار سے، پچھلے تمام انبیا اعتقادی انبیا ہیں، نہ کہ تاریخی انبیا۔ ایسی حالت میں کیوں کر ایسا ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کو استثنائی طور پر تاریخی شخصیت کا درجہ حاصل ہو گیا۔ دوسری تمام شخصیتیں جن کو تاریخی شخصیت کہا جاتا ہے، اُن کو یہ درجہ صرف اس لیے حاصل ہوا کہ مدوّن تاریخ (recorded history) کی صورت میں تاریخ کا جو ذخیرہ تیار ہوا ہے، اس میں اُن کا تذکرہ موجود ہے۔ لیکن پیغمبرِ اسلام کو جو تاریخی حیثیت ملی، وہ اصلاً مدوّن تاریخ کے ریکارڈ کی بنا پر نہیں ملی۔ پھر اس استثنائی واقعے کا سبب کیا تھا۔
اس کا سبب وہ لٹریچر ہے جس کو حدیث لٹریچر کہا جاتا ہے۔ حدیث لٹریچر صرف شرعی احکام کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وہ اُن تاریخی واقعات کا مجموعہ بھی ہے جو پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں پیش آئے۔ پیغمبرِ اسلام واحد پیغمبر تھے جو اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں ایک وسیع ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔
یہ اصحابِ رسول یا پیغمبرِ اسلام کی ہم عصر ٹیم (contemporary team) آپ کی پوری زندگی میں آپ کے ساتھ رہی۔ انھوں نے آپ کے ساتھ دعوتِ الی اللہ کا کام کیا۔ وہ آپ کے ساتھ حج اور عبادت میں شریک ہوئے۔ سفر اور حضر میں وہ آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ صلح اور جنگ کے تمام مواقع پر وہ آپ کے ساتھ شریک رہے۔ انھوں نے آپ کی انفرادی زندگی کو بھی دیکھا اور آپ کی اجتماعی سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو انھوں نے محفوظ کیا۔ حفاظتِ احادیث کا یہ سلسلہ اصحابِ رسول کے بعد بھی نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ حدیث کی وہ کتابیں تیار ہوگئیں جو اب ہر کتب خانے میں مطبوعہ شکل میں موجود ہیں۔
احادیثِ رسول کے ناقل جن کو رُواۃ (narrators) کہا جاتا ہے، وہ سادہ طور پر صرف ناقلِ حدیث نہ تھے، بلکہ اسی کے ساتھ وہ ناقلِ تاریخ بھی تھے۔ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کی زندگی کی تمام سرگرمیوں کو نہایت صحت کے ساتھ محفوظ کر دیا۔ یہی وہ ریکارڈ ہے جس نے پیغمبرِ اسلام کو
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues