Al-Risala · December 2013 · page 46

حدیث وحی غیر متلو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴۶

خالص علمی اعتبار سے، ثابت شدہ طور پر تاریخی پیغمبر کا درجہ دے دیا۔

جیسا کہ معلوم ہے، اسلام کے دو مستند ماخذ ہیں — قرآن اور حدیث۔ جہاں تک اسلام کی بنیادی تعلیمات کا معاملہ ہے، وہ سب کی سب قرآن میں موجود ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام کی زندگی کا وہ حصہ جس کو تاریخ کہا جاتا ہے، اُس کا مستند ماخذ صرف احادیث کا ذخیرہ ہے۔ احادیث کو اگر حذف کر دیا جائے تو اسلام اور پیغمبر اسلام کی تاریخی بنیاد ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد اسلام اور پیغمبر اسلام کی حیثیت صرف ایک عقیدے کی ہوگی، نہ کہ تاریخ کی۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اتنا اہم تھا کہ قرآن میں استثنائی طور پر اس کو فتح مبین (clear victory) کہا گیا ہے۔ لیکن اس واقعے کی تفصیلات قرآن میں مذکور نہیں۔ اس واقعے کی تمام تفصیلات ہم کو حدیث اور سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہی معاملہ پیغمبر اسلام کی زندگی کے دوسرے تمام واقعات کا ہے۔

حدیث وحی غیر متلو

قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو، یعنی قرآن خدا کا مبنی بر وحی کلام (revealed word of God) ہے اور حدیث خدا کا مبنی بر الہام کلام (inspired word of God) قرآن اگر حدیث قدسی ہے تو حدیث، حدیثِ رسول۔ قرآن اگر لفظی قرآن ہے تو حدیث گو یا معنوی قرآن۔ قرآن اور حدیث دونوں کا اصل منبع (source) ایک ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے کسی پیچیدہ فنی بحث کی ضرورت نہیں، قرآن اور حدیث کا سادہ مطالعہ ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اگر آپ عربی زبان جانتے ہیں اور آپ کے اندر متاثر ذہن (preoccupied mind) نہیں ہے تو آپ کا کامن سنس (common sense) ہی اس معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ آپ محسوس کریں گے کہ قرآن اور حدیث کے اسلوب میں واضح فرق موجود ہے۔ زبان کے اشتراک کے باوجود صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا متکلم اور ہے اور حدیث کا متکلم اور۔ اسلوب کے اس فرق کے باوجود جہاں تک معنی کی بات ہے، معنی کے اعتبار سے، دونوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page