Al-Risala · February 2013 · page

اسلام فطرت کی آواز

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

اسلام فطرت کی آواز

اسلام انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ اسلام اگر کسی ملاوٹ کے بغیر انسان کے سامنے آئے تو وہ اُس کے ذہن کو ایڈریس کرے گا، وہ خود اپنے داخلی شعور کے تحت اسلام کی اہمیت کو ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں مکہ کے لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ مگر جب قرآن کے ذریعے ان کے سامنے اسلام کا پیغام توحید بے آمیز طور پر آیا تو ان کی اکثریت نے اسلام کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اس کو جلد یا بدیر قبول کر لیا۔

موجودہ زمانے میں بھی اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ ایک بنگالی ہندو جن کا نام ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیا (وفات : 1910) تھا، انہوں نے اعلیٰ تعلیم پائی۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ اُنھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ ان کی فطرت نے اسلام کی سچائی کی تصدیق کی۔ چناں چہ اُنھوں نے اسلام کو اپنے مذہب کی حیثیت سے قبول کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے انگریزی زبان میں کئی کتابیں لکھیں۔ اُنھوں نے 1904 میں حیدر آباد (انڈیا) کے ایک جلسے میں اپنے اسلام کا اعلان کیا اور اپنا نام عزیز الدین رکھا۔

اِسی طرح مارماڈیوک پکتھال (Marmaduke Pickthall) ایک انگریز تھے۔ وہ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ اسلام کی فطری تعلیمات نے ان کو متاثر کیا۔ چناں چہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام محمد پکتھال رکھا۔ ان کی وفات 1936 میں ہوئی۔ انھوں نے انگریزی زبان میں قرآن کا مکمل ترجمہ کیا۔ یہ انگریزی ترجمہ کافی مقبول ہوا۔

موجودہ زمانے کے مسلمان یہود کو اسلام کا ازلی دشمن سمجھتے ہیں، مگر یہ بات یقینی طور پر غلط ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہر زمانے میں یہودی، اسلام قبول کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر عبد اللہ بن سلام مدینہ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ وہ مدینہ کے ایک بڑے یہودی عالم تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page