Al-Risala · February 2013 · page

اسلام فطرت کی آواز

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

ہجرت کے بعد انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ 663 عیسوی میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔

اسی طرح کعب الاحبار یمن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک بڑے یہودی عالم تھے۔ انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانے میں اسلام قبول کیا۔ حضرت عمر کے زمانے میں وہ یمن سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔ 652 عیسوی میں شام کے شہر حمص میں ان کی وفات ہوئی۔

بعد کی صدیوں میں بھی یہود کے قبول اسلام کا سلسلہ جاری رہا۔ موجودہ زمانے میں فلسطین کے سوال کو لے کر یہود اور مسلمانوں کے درمیان نہایت تلخ فضا قائم ہوگئی ہے۔ مسلسل طور پر دونوں کے درمیان تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود موجودہ زمانے میں بھی یہود میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے کھلے طور پر اسلام قبول کیا۔

اس قسم کی ایک مثال محمد اسد (Leopold Weiss Muhammad Asad) کی ہے۔

وہ یوکرین (Ukraine) کے ایک یہودی خاندان میں 1900 میں پیدا ہوئے اور 1992 میں اسپین میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر 1926 میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے انگریزی زبان میں قرآن کی ایک مکمل تفسیر لکھی۔ اسی طرح انھوں نے دوسری کتابیں اسلام کے موضوع پر تیار کیں۔

اسی طرح کی ایک مثال مریم جمیلہ کی ہے۔ وہ 1934 میں نیو یارک (امریکا) کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا ابتدائی نام مارگریٹ مارکوس (Margret Marcus) تھا۔ انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر 1961 میں اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام مریم جمیلہ رکھا۔ انھوں نے انگریزی زبان میں اسلام پر کئی کتابیں لکھیں ۔ 31 اکتوبر 2012 کو لاہور (پاکستان) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے سب سے بڑی چیز جو کھوئی ہے، وہ مغل ایمپائر یا عثمانی ایمپائر جیسی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ سب سے بڑی چیز جو انھوں نے کھوئی ہے، وہ دعوت الی اللہ کا ذہن ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page