Al-Risala · February 2013 · page

اسلام فطرت کی آواز

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

موجودہ زمانے میں پوری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت کا حقیقی ذہن مفقود ہے۔ اگر کوئی شخص دعوت کا نام لیتا ہے تو وہ بھی اپنے خود ساختہ مفہوم میں، نہ کہ قرآن و حدیث کے اصل مفہوم میں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن اسلام پسند ذہن نہیں ہے، بلکہ وہ قوم پسند ذہن ہے۔ اس قوم پسند ذہن کی بنا پر یہ ہوا ہے کہ ان کی ہر چیز پر قوم پسندی کا ذہن غالب آگیا ہے۔ دعوت الی اللہ مسلم ملت کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اسی فریضے کے تصور سے ان کی سوچ درست ہوتی ہے، اس فریضے کی ادائیگی سے ان کی تمام سرگرمیوں کا رخ صحیح ہوتا ہے، اسی فریضے کی ادائیگی سے وہ اللہ کی نصرت کے مستحق بنتے ہیں۔ دعوت الی اللہ کی سوچ مسلم ملت کے لیے گویا ماسٹر فارمولا (master fomula) کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر دعوت الی اللہ کا تصور زندہ ہو تو ان کے تمام معاملات درست ہوں گے اور اگر دعوت الی اللہ کا تصور ان کے اندر زندہ نہ ہو تو ان کے تمام معاملات بگڑ جائیں گے۔

دعوتی شعور کے اس فقدان کا ایک سنگین نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے روپ میں نہ دیکھ سکے اور جب ان قوموں کے کچھ افراد نے خود اپنی تلاش کے ذریعے اسلام قبول کیا تو وہ ان کو مزید دعوتی کام کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ مثلاً محمد اسد کی ملاقات اسلام قبول کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) سے ہوئی۔ اقبال خود مسلم ریاست کا خواب دیکھتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے محمد اسد کو بھی مسلم ریاست کے قیام کے بے نتیجہ کام پر ڈال دیا۔ محمد اسد کے لیے صحیح مشورہ یہ تھا کہ ان کو یہ بتایا جائے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں میں اسلامی دعوت کا کام کریں، نہ کہ مسلم ریاست کے قیام کے بے نتیجہ کام میں اپنا وقت ضائع کریں۔ یہی واقعہ مریم جمیلہ کے ساتھ پیش آیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ 28 سال کی عمر میں پاکستان آگئیں۔ یہاں ان کی ملاقات مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) سے ہوئی۔ مولانا مودودی، اسلام کی سیاسی تعبیر میں یقین رکھتے تھے اور اسی راستے پر انھوں نے مریم جمیلہ کو بھی ڈال دیا۔ چناں چہ دونوں میں سے کوئی بھی مطلوب انداز میں دعوت الی اللہ کا کام نہ کر سکا، نہ محمد اسد اور نہ مریم جمیلہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page