Al-Risala · February 2013 · page

پانچ فقہی اسکول

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

اس طرح نماز کا ایک پہلو وہ تھا جس کے بارے میں تمام صحابہ ایک ہی متعین طریقے کے پابند تھے، لیکن اسی کے ساتھ نماز کے بعض دوسرے پہلوؤں کے بارے میں فرق یا اختلاف پایا جاتا تھا۔ مثلاً کسی نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے، اور کسی نے سینے کے نیچے قراتِ فاتحہ کے بعد کسی نے آمین دھیرے سے کہی، اور کسی نے زور سے۔ نماز کے دوران کسی نے اللہ اکبر کہتے ہوئے رفع یدین کیا، اور کسی نے نہیں کیا، وغیرہ۔

جمعِ حدیث کے دوران جب عبادت کے اختلافات سامنے آئے، تو اب یہ سوال اٹھا کہ ان اختلافات کی کیا توجیہہ کی جائے۔ اختلافات کو مٹانا ممکن نہ تھا، کیوں کہ یہ اختلافات سب کے سب، اصحاب رسول کی طرف سے آ رہے تھے، اور اصحاب رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے براہ راست طور پر پیغمبر کی عبادت کا مشاہدہ کیا تھا۔ اُن کو مخاطب کرتے ہوئے پیغمبر نے کہا تھا: صلّوا كما رأيتموني أصلي (صحيح البخاري، رقم الحديث: 631/6008) ایسی حالت میں ہر طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مستند حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس بنیاد پر ایک طریقے کو لیا جائے اور دوسرے طریقے کو چھوڑ دیا جائے۔

اس موقع پر مسلم فقہا کی دو رائیں ہو گئیں۔ ایک رائے یہ تھی کہ: الحق لا يتعدد (تذكرة المؤتسي 1/402) یعنی حق کئی نہیں ہو سکتا، اس لیے ہمیں عملی طور پر یہ کرنا ہو گا کہ ہم یہاں ترجیح (preference) کے اصول کو رائج کریں، یعنی کسی ایک رائے کو راجح قرار دینا، اور دوسری رائے کو مرجوح قرار دے کر اُس کو چھوڑ دینا۔

مگر اس کے باوجود مسئلہ باقی رہا، کیوں کہ ترجیح کا اصول ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے اور جہاں اجتہاد آیا، وہاں اختلاف رائے بھی لازماً آئے گا۔ چناں چہ ترجیح کے اس اصول کا نتیجہ عملی طور پر یہ ہوا کہ لوگوں کے درمیان کئی رائیں بن گئیں۔ ہر ایک نے اپنی رائے کی صحت پر اصرار کیا۔ چناں چہ کسی نے ایک رائے کو ترجیح (preference) دی اور کسی نے دوسری رائے کو، اور اس طرح لوگ کئی گروہ میں بٹ گئے۔ مختلف فقہی اسکول کے وجود میں آنے کا سبب یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page