Al-Risala · February 2013 · page

پانچ فقہی اسکول

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

ترجیح کے اس اصول پر بحث کرتے ہوئے محمد بن ادریس الشافعی (وفات: 820ء) نے درست طور پر لکھا ہے کہ: رأيي صواب يحتمل الخطأ، ورأى غيري خطأ يحتمل الصواب (الفتاوى الكبرى الفقھية 4/313) یعنی میری رائے درست ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط ہو۔ اور دوسری کی رائے غلط ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ درست ہو۔ امام شافعی کے اس قول سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں فقہا کا مسلک کتنا زیادہ غیر منطقی (illogical) تھا۔ جب ایک رائے کو ترجیح دینے کے بعد بھی اس کی عدم صحت کا احتمال موجود ہے، اور اسی طرح جب ایک رائے کو ترک کرنے کے باوجود بھی اس کی صحت کا احتمال پایا جائے، تو ایسی ترجیح عملاً سرا سر بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی پریقین کیفیت کے ساتھ اپنی عبادت کر سکے، جب کہ عبادت کے ساتھ یقین کا عنصر لازمی طور پر ضروری ہے۔ محدثین کا مسلک اس معاملے میں فقہا کے مسلک سے مختلف تھا، اور بلاشبہ وہ ہی مسلک زیادہ درست تھا۔ محدثین کے نقطہ نظر کا اندازہ احمد بن حنبل (وفات: 855ء) کے ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ محمد بن عبدالرحمن صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کہ اگر کسی مسئلے میں صحابہ کا اختلاف ہو، تو کیا تنقید اور تمحیص کرنا چاہیے، تا کہ جس کے ساتھ حق نظر آئے، اس کی پیروی کی جائے۔ احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا، پھر ہم کیا کریں۔ احمد بن حنبل نے کہا: تقلّد أيهم أحببت (جامع بیان العلم، صفحہ 83) یعنی تم جس صحابی کے قول کو چاہو، لے لو اور اس کے مطابق اس کی پیروی کرو۔ محدثین کے مسلک کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتوں کے اس فرق کو تنوع (diversity) پر محمول کیا، یعنی یہ بھی ٹھیک، اور وہ بھی ٹھیک۔ یہ نظریہ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے اخذ کیا: أصحابي كالنجوم، بأيهم اقتديتم، اهتديتم (کشف الخفاء، جلد 1، صفحہ 146) یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ اُن میں سے تم جس کی بھی پیروی کروگے، راہ یاب ہوگے۔

اس نقطۂ نظر کی حکمت یہ تھی کہ چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے کچھ اساسی اجزا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page