Al-Risala · February 2013 · page

ں |

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

تحقیق شروع کی۔ طویل کوشش کے بعد انھوں نے دریافت کیا کہ اہرام کے اندر مصر کے قدیم بادشاہوں کے مردہ اجسام مومیائی حالت میں موجود ہیں۔ چناں چہ خصوصی اہتمام کے ساتھ ان اجسام کو نکالا گیا ۔ اس کے بعد ان اجسام کی جانچ شروع ہوئی۔ سائنس کے جدید طریقوں کے مطابق ، ان کی عمر کا تعین کیا گیا۔ اس تحقیق کے دوران حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ مصر کے قدیم بادشاہ فرعون کی لاش ایک اہرام میں موجود تھی۔ سائنسی ٹکنیک کے ذریعے جب اس کی عمر کا پتہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت موسیٰ کا ہم زمانہ شاہ مصر فرعون کا جسم ہے، جس کی بابت قرآن میں 14 سو سال پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ محفوظ حالت میں موجود ہے، اور مستقبل میں وہ انسان کے علم میںآجائےگا۔ اس حقیقت کا علم اس سے پہلے کسی بھی انسان کو حاصل نہ تھا۔ قرآن میں اس کا صراحتاً ذکر ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اُس خدا کی کتاب ہے جو ساری باتوں کو جانتا ہے (عالم الغیب والشھادة)۔ اس نے اپنے علم کے تحت قرآن میں یہ آیت اتاری۔ اس واقعے میں واضح طور پر جدید سائنس ، قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کی تصدیق بن گئی۔

فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (وفات: 1998) نے 1975 میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ مصر کا سفر کیا ، اور قاہرہ کے میوزیم میں جا کر وہاں براہِ راست طور پر اس محفوظ جسم کا مشاہدہ کیا۔ اس واقعے پر پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد انھوں نے اپنی کتاب میں نہایت حیرت کے ساتھ یہ الفاظ درج کیے ہیں ۔ وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں (Mummies) کے کمرے کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی اُن آیتوں کی شان دار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں :

Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures, will find a magnificent illustration of verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!

5- دین کے عقائد میں سے ایک بنیادی عقیدہ رسالت کا عقیدہ ہے ، یعنی یہ عقیدہ کہ انسان کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page