ں |
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
شامل ہے: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ (2:2) یعنی یہ خدا کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کے ساتھ قرآن کا یہ اعلان تھا کہ وہ ابدی طور پر سارے انسانوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ وہ کسی زمانے یا کسی مقام کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر دور اور ہر انسانی گروہ کے لیے ہے۔ قرآن کے اس دعوے کی صداقت کے لیے ضروری تھا کہ بعد کے زمانے کے حالات اس کی تصدیق کرتے رہیں۔ بعد کے زمانے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے جو اس بیان کی تردید کرنے والا ہو۔ قرآن کا یہ بیان حیرت انگیز طور پر اس معیار پر پورا اترا ہے۔ راقم الحروف نے اس موضوع سے متعلق اس کے مختلف پہلوؤں پر کئی مضامین اور کتابیں تیار کی ہیں۔ مثلاً تاریخی پہلو، نفسیاتی پہلو، حیاتیاتی پہلو اور سائنسی پہلو، وغیرہ۔ یہاں اس سلسلے میں صرف ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔ قرآن کی سورہ یونس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں خدا نے مصر کے فرعون (Ramesses II) کو سمندر میں غرق کیا۔ کیوں کہ اُس نے خدا کے پیغمبر موسیٰ کا انکار کیا تھا۔ اُس وقت خدا نے کہا تھا کہ ـ آج ہم تمھارے جسم کو محفوظ کر دیں گے، تاکہ وہ تمھارے بعد آنے والوں کے لیے ایک نشانی بنے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اَيَةً (52: ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب قرآن میں یہ آیت اتری تو اس واقعے پر دو ہزار سال سے زیادہ مدت گزر چکی تھی۔ اُس زمانے میں نہ پرنٹنگ پریس تھا اور نہ کمیونیکیشن، اور نہ معلوم تاریخ میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ چناں چہ تمام لوگ اس واقعے کو بھول چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی بھی شخص نہ اس واقعے کو جانتا تھا اور نہ اُس کو یہ خبر تھی کہ کبھی فرعون کا جسم ظاہر ہو کر قر آن کی اس آیت کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اس آیت کے نزول کے ہزار سال بعد انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں سائنس نے ایسے طریقے دریافت کیے، جن کے ذریعے قدیم اجسام کی تاریخ ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کی جاسکے۔ مزید یہ کہ سائنس کی ترقی نے لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر تجسس کا ذہن پیدا کیا۔ لوگ ہر میدان میں نئی نئی چیزیں دریافت کرنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہو گئے۔ اِسی دوران مغربی یورپ کے کچھ اسکالر مصر پہنچے۔ انھوں نے قاہرہ کے قریب واقع اہرام کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues