ں |
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
پر ہوتا ہے، وہ انسان کو رہنمائی کے ابدی اصول دینے کے معاملے میں پوری طرح ناکام ہے۔ فلسفیانہ شعبے کی یہی نا کامی تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ موجودہ سائنس کے ظہور کے بعد فلسفے کا دور ختم ہو گیا۔ اب فلسفے کی حیثیت زیادہ تر ایک تاریخی شعبے کی ہے، نہ کہ زندہ شعبہ علم کی۔
یہی معاملہ باطنيت (mysticism) کے ساتھ پیش آیا۔ باطنی نقطہ نظر کے حاملین کا خیال تھا کہ وہ باطنيت کے تجربے کے ذریعے سچائی کو دریافت کر سکتے ہیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ باطنيت کیا ہے، اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
Mysticism: The doctrine that it is possible to attain the higher truth through contemplation and love without the medium of human reason, or without any other external source. مسٹی سزم کی تاریخ کئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ بے شمار لوگوں نے مسٹی سزم کے ذریعے سچائی کو پانا چاہا، لیکن لمبے تجربے کے بعد معلوم ہواکہ مسٹی سزم کے ذریعے آخری چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ وجد (ecstasy) ہے۔ مگر سچائی کے معاملے میں وجد کی کوئی حقیقت نہیں۔ انسان کے وجود میں سب سے بڑی چیز شعور یا ذہن ہے۔ اس لیے سچائی کو پانے والا وہی شخص ہے جو ذہن یا شعور کی سطح پر سچائی کو پائے، نہ کہ وجد کی سطح پر۔ وجد در اصل بے شعوری کی ایک حالت ہے جس کو بے خودی کے خوب صورت لفظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سچائی در اصل شعور کی سطح پر حقیقت اعلیٰ کی دریافت کا نام ہے۔ شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کی ایک مادی مثال بجلی کے بلب اور پاور ہاؤس میں ملتی ہے۔ بلب ابتدائی حالت میں ایک بے نور شے ہے۔ اس کے اندر نہ خود روشنی ہے اور نہ وہ دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جب پاور ہاؤس سے اس کا کنکشن قائم ہو جاتا ہے تو اچانک وہ ایک روشن وجود بن جاتا ہے۔ اب وہ خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔ سچائی کو پانے کا معیار کیا ہے، وہ اس مادی واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ سچائی کو پانا شعوری معنوں میں ایک روشنی کو پانا ہے۔ مسٹی سزم اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مسٹی سزم سے آدمی کو جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بے شعوری ہے، نہ کہ شعور۔ اور انسان جیسی با شعور ہستی کے لیے بے شعوری کبھی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues