ں |
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
حقیقت اعلیٰ کی دریافت کے ہم معنی نہیں بن سکتی۔ اِسی معاملے میں آخری چیز جس کا نام لیا جا سکتا ہے، وہ سائنس ہے۔ جدید سائنس نے بلا شبہ انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ مثلاً ٹیلی کمیونیکیشن اور کنزیومر گڈس (consumer goods)، وغیرہ۔ مگر جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ سچائی کی دریافت اس کا میدان عمل نہیں۔
ایک مغربی اسکالر نے درست طور پر لکھا ہے کہ علم کا میدان بہت وسیع ہے۔ علم کی دو قسمیں ہیں۔ چیزوں کا علم (knowledge of things)، اور سچائی کا علم (knowledge of truth)۔ اہل علم کے درمیان بلا اختلاف یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ سائنس کا دائرہ صرف چیزوں کے علم تک محدود ہے۔ سچائی کا علم سائنس کے دائرے سے مکمل طور پر باہر ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اس مقابلے میں بطور امیدوار بھی شامل نہیں۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا راستہ متعین کرنے کے لیے گہرے علم کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو ڈاکٹر الیکسس کیرل نے اپنی کتاب انسان نامعلوم (Man the Unknown) میں بخوبی طور پر واضح کیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان خود اپنی کوششوں سے اس ناگزیر علم کو دریافت نہیں کر سکتا۔ ایک طرف، علم کا ناگزیر ہونا اور دوسری طرف، انسان کا اس ناگزیر علم کو دریافت کرنے کے لیے نااہل ہونا، بتاتا ہے کہ اس معاملے میں انسان کو ایک خارجی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے پیغمبر کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ پیغمبر ہی وہ انسان ہے جو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے ہمارا حقیقی رہنما ہے۔ (25 دسمبر 2007) الرسالہ مشن کے ذریعے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے، ہم آپ کی زبان میں اس کو مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اس سلسلے میں اپنے تجربات اور واقعات اردو یا انگریزی میں ، نام اور پتے کی مکمل تفصیل کے ساتھ، واضح اور متعین انداز میں لکھ کر حسب ذیل پتے پر روانہ فرمائیں: Al-Risala I, Nizamuddin West Market, New Delhi-110 013 Tel. 011-41827083, 46521511, E-mail: znadwi@yahoo.com
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues