Al-Risala · February 2013 · page

بابری مسجد : ایک پیغام

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

بابری مسجد : ایک پیغام

ایک شخص کا قول ہے کہ زندگی میں کوئی موقع (chance) صرف تین بار آتا ہے، چوتھی بار نہیں ۔ بابری مسجد کے مسئلے پر یہ قول پوری طرح صادق آتا ہے۔ بابری مسجد کے معاملے میں مسلمان تین موقع کھو چکے ہیں، اب چوتھا موقع اُنھیں ملنے والا نہیں۔

بابری مسجد کو بے مسئلہ مسجد بنانے کا پہلا موقع وہ تھا جب کہ بابر کے گورنر میر باقی نے 1528 عیسوی میں ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کرائی۔ اُس مقام پر بابری مسجد سے پہلے ہندوؤں کا ایک مقدس اسٹر کچر تھا، جس کو وہ رام چبوترہ یا رام مندر کہتے تھے۔ میر باقی نے یہ کیا کہ رام چبوترہ کو مسجد کے صحن سے ملا کر مسجد کی تعمیر کروائی۔ یہ اس معاملے میں پہلے موقع کو کھونا تھا، کیوں کہ خلیفہ عمر فاروق کے مقرر کردہ ایک اصول کے مطابق، دو عبادت خانوں کو ’رُمیہ حجر‘ (stone's throw) کی دوری پر ہونا چاہیے، لیکن میر باقی نے اس اصول پر عمل نہ کر کے اول دن سے بابری مسجد کو ایک نزاعی مسجد بنا دیا۔ اِس معاملے میں دوسرا موقع وہ تھا جب کہ 1949 میں کچھ ہندوؤں نے بابری مسجد کے اندر تین بت رکھ دئے۔ اُس وقت مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اس معاملے کو عدالت تک محدود رکھیں، لیکن مسلم لیڈر اس مسئلے کو سڑکوں پر لے آئے۔ اِس طرح مسلم لیڈروں نے دوسرے موقع کو کھودیا، کیوں کہ سڑک پر آنے کے بعد مسئلہ صرف مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، وہ کبھی حل نہیں ہوتا۔ تیسرا موقع وہ تھا جب کہ 1991 میں اُس وقت کی یوپی گورنمنٹ نے یہ پیش کش کی کہ مسلمان اگر مسجد کو ری لوکیٹ (re-locate) کرنے پر راضی ہوں تو وہ مسجد کے لیے مسلمانوں کی پسند کے مطابق، ایک متبادل جگہ اُن کو دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس پیش کش کو رد کر کے اس تیسرے موقع کو بھی کھودیا۔

اِس کے بعد 6 دسمبر 1992 کو مسجد ڈھا دی گئی۔ اب بابری مسجد کی تعمیرِ ثانی کی تحریک چلانا گویا چوتھے موقع کو تلاش کرنا ہے جو کہ سرے سے ملنے والا ہی نہیں۔ (6 دسمبر 2012)

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page