Al-Risala · February 2013 · page

کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

جموں وکشمیر کی تحریک 1947 کے بعد شروع ہوئی ۔ ابتدا میں وہ پر امن انداز میں چلائی جارہی تھی۔ کشمیری لیڈر پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے نہایت زور وشور کے ساتھ اس کو چلاتے رہے۔ 40 سال سے زیادہ مدت تک اس ’’پرا من‘‘ تحریک کو نا کام طور پر جاری رکھنے کے بعد کشمیر میں نئی لیڈرشپ ابھری۔ انھوں نے دوسرا آپشن لیا۔ نئی لیڈر شپ نے 1988 سے کشمیر کی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلانا شروع کردیا، لیکن کشمیر کا یہ دوسرا دور بھی اپنے نتیجے کے اعتبار سے، مکمل طور پر نا کام رہا۔ بے حساب جانی اور مالی نقصان کے باوجود اس دوسرے دور میں بھی یہ ہوا کہ کشمیری اپنے مطلوب مقصد کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے، جب کہ اس پر تشدد جد و جہد میں پاکستان پوری طرح ان کا مددگار بن گیا تھا۔

کشمیر کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیری لیڈر دونوں میدانوں میں مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں، پر امن میدان میں بھی اور عسکریت کے میدان میں بھی۔ اب اصل مسئلہ کسی تیسرے آپشن کی تلاش کا ہے، نہ کہ ناکام عسکری طریق کار سے، نا کام پر امن طریق کار کی طرف دوبارہ لوٹنے کا۔ کشمیری لیڈروں کی مذکورہ تبدیلی‘‘ خوب صورت الفاظ میں صرف ہلاکت کی توسیع ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ نام نہاد تبدیلی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ کشمیری لیڈر جس طرح پہلے دانش مندانہ سوچ سے محروم تھے، اُسی طرح اب بھی وہ دانش مندانہ سوچ سے محروم ہیں۔

کشمیریوں کے لیے تیسرا قابل عمل آپشن کیا ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اسٹیٹس کو ازم (statusquoism)، یعنی موجودہ صورت حال کو علیٰ حالہ قبول کر لینا اور اپنی تمام کوششوں کو تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دینا۔ اب کشمیریوں کے لیے جو دانش مندانہ راستہ ہے، وہ صرف یہی ہے۔ یہ تیسرا ممکن راستہ ایک لفظ میں ــ پرامن تعمیر ہے، نہ کہ صورتِ حال کو بدلنے کے نام پر مفروضہ قسم کی پرامن جد و جہد، جو کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، نہ پر امن ہے اور نہ جد و جہد۔ کشمیریوں کے لیے نیا آغاز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطی کا کھلا اعتراف کریں اور نئے ذہن کے ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کا منصوبہ بنائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page