بابری مسجد : ایک پیغام
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
فیشن پرستی اور صارفیت (consumerism) کے سیلاب میں بہنے والی خواتین اگر ان باتوں کی طرف متوجہ ہوں تو سماج سے فتنه و فساد کا خاتمه ہو سکتا ہے۔ (شار اختر، ابو الکلام آزاد لائبریری، در بھنگه، بہار) جواب ماہ نامہ الرساله کے بارے میں آپ کا تاثر قابلِ قدر ہے۔ اللہ تعالی مزید ترقی عطا فرمائے۔ میرے تجربے کے مطابق، الرساله کے قاری (readers) تین قسم کے ہیں:
1۔ ایک قسم اُن لوگوں کی ہے جو الرساله کو صرف ادب یا معلومات کے لیے پڑھتے ہیں۔ اُن کو الرساله میں ایک ادبی چاشنی ملتی ہے یا الرساله سے اُن کو نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں، اس لیے وہ دلچسپی کے ساتھ الرساله کو پڑھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو الرساله کو محض انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے ایک آئٹم کے طور پر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ نہ الرساله کو جانتے ہیں اور نہ خود اپنے آپ کو، حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ بحیثیت انسان ان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے۔ ایسے لوگ ہمارے نزدیک، الرساله کے قاری نہیں ہیں۔ اُن کو الرساله سے وقتی تفریح کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔ 2۔ الرساله کے قاریوں کی دوسری قسم وہ ہے جو الرساله سے وہ چیز لیتے ہیں جس کو ’راز حیات‘ کہا جا سکتا ہے، یعنی دنیا میں زندگی گزارنے کا تعمیری طریقہ۔ ایسے لوگ الرساله کے قاری ہیں، مگر وہ اس کے قاری نہیں، یعنی انھوں نے الرساله سے صرف اس کا قشر پایا، مگر انھوں نے الرساله کا مغز نہیں پایا۔ انھوں نے بطور خود جو عملی زندگی اختیار کر رکھی ہے، اُس کے حق میں انھیں الرساله میں کچھ مفید مواد مل جاتا ہے، اسی کو وہ کافی سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ الرساله کے صرف جزئی قاری ہیں، وہ حقیقی معنوں میں الرساله کے قاری نہیں۔ ایسے کو الرساله کا قدرداں کہا جا سکتا ہے، لیکن ان کو الرساله شناس نہیں کہا جا سکتا۔ 3۔ الرساله کا حقیقی قاری وہ ہے جو خالی الذہن (empty mind) ہو کر الرساله کو پڑھے، جو الرساله میں خدائی حکمت (divine wisdom) کو دریافت کرسکے- اِسی خدائی حکمت کا دوسرا نام معرفت یا ربانیت ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے الرساله ذہنی ارتقا اور روحانی بلندی کا ذریعہ بن جائے گا، وہ الرساله میں وہ چیز پانے لگیں گے جس کو قرآن میں، رزق رب (20:131) کہا گیا ہے، الرساله اُن کے لیے اُن کی فطرت کی تلاش کا جواب بن جائے گا، وہ الرساله کے مضامین میں انسان کی ابدی سعادت کا راز دریافت کر لیں گے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو الرساله کا حقیقی قاری بنائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues