تبصره
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
لعنت نہ بھیجوں گا حالاں کہ اُس کے دل کا ہر خیال بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہوتا ہے اور آئندہ کبھی تمام جانداروں کو ہلاک نہ کروں گا، جیسا میں نے کیا۔ جب تک زمین قائم ہے تب تک بیج بونے اور فصل کاٹنے کے اوقات، خشکی اور حرارت، گرمی اور سردی، اور دن اور رات کبھی موقوف نہ ہوں گے۔ ‘ (22-1: 8 ,Genesis)
تبصره
حضرت نوح کا جو مشن تھا، وہی تمام پیغمبروں کا مشن تھا۔ حضرت آدم سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے پیغمبر دنیا میں آئے، اُن سب کا واحد مشن یہ تھا کہ وہ انسان کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کریں۔ وہ ان کو یہ بتائیں کہ موجودہ دنیا ایک دار الامتحان (testing ground) ہے۔ یہاں انسان کو آزادی دے کر یہ امتحان لیا جا رہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور وہ کون شخص ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ یہ معاملہ ایک متعین وقت (appointed time) تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد قیامت آئے گی اور قرآن کے الفاظ میں، موجودہ دنیا کو بدل کر ایک اور دنیا (13:48) بنائی جائے گی، جہاں امتحان میں کامیاب ہونے والے ابدی جنت میں جگہ پائیں گے اور امتحان میں ناکام ہونے والوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو لمبی مدت تک ہر طرح سمجھایا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے آپ کی بات مانی اور زیادہ لوگوں نے آپ کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب یہ ظاہر ہو گیا کہ اب مزید کوئی ماننے والا نہیں ہے، بلکہ معاشرہ اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اس میں جو شخص پیدا ہوگا، وہ صرف غیر صالح بن کر اٹھے گا۔
اُس وقت حضرت نوح نے اللہ کے حکم کے مطابق، دعا کی اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس کو طوفانِ نوح کہا جاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح اور ران کے ماننے والے لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے اور بقیہ تمام لوگ طوفان میں غرق کردئے گئے۔ صالح لوگوں کو بچا کر ابدی جنت کا مستحق قرار دیا گیا اور غیر صالح لوگ ہلاک ہو کر ابدی جہنم کے مستحق بن گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues