تبصره
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
طوفان نوح کے اس معاملے کی حیثیت ایک تاریخی مثال کی تھی۔ اللہ نے حضرت نوح کے واقعے کی صورت میں یہ مثال قائم کردی کہ آخری زمانے میں جب انسانی تاریخ کے خاتمے کا وقت ہوگا، اُس وقت دوبارہ اسی طرح کا ایک اور زیادہ بڑا زلزلہ خیز طوفان آئے گا جس کو قرآن میں قیامت کا نام دیا گیا ہے۔ قیامت کے بعد خدائی منصوبے کے مطابق ، حیاتِ انسانی کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ یہ آخرت کا دور ہوگا جو کہ کامل بھی ہوگا اور ابدی بھی۔
حضرت آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اللہ نے حضرت آدم کو جو شریعت دی تھی، اُن کی بعد کی نسلیں اُس شریعت پر باقی رہیں، مگر دھیرے دھیرے ان کے اندر زوال آیا۔ یہ زوال شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا۔
ابتداء یہ ہوا کہ وہ اپنے بزرگوں، وُدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر (71:23) کے مرنے کے بعد ان کی تعظیم کرنے لگے۔ تعظیم کے بعد ان کے اندر اپنے بزرگوں کی تقدیس کا عقیدہ پیدا ہوا۔ دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ انھوں نے اپنے ان بزرگوں کے مجسمے بنائے اور پھر ان کی عبادت شروع کردی۔ جب بگاڑ کی یہ حد آئی تو اللہ نے ان کے درمیان اُنھیں کی قوم سے پیغمبر نوح کو پیدا کیا۔ بائبل کے بیان کے مطابق، پیغمبر نوح، حضرت آدم کی دسویں نسل میں پیدا ہوئے ۔ حضرت نوح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر لمبی عمر دی، یعنی 950 سال۔ قرآن کی سورہ نوح (71) میں حضرت نوح کی دعوت کا خلاصہ بتایا گیا ہے۔ دوسرے انبیا کی طرح حضرت نوح کی دعوت بنیادی طور پر دو چیزوں کی طرف تھی— توحید، اور آخرت۔
مگر قوم کا بگاڑ اتنا زیادہ بڑھ چکا تھا کہ چند لوگوں کو چھوڑ کر بقیہ افراد آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ قرآن میں اُن کی طرف سے جو قول نقل کیا گیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے:’’ انھوں نے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ تم ہرگز نہ چھوڑ نا وُدّ کو اور سُواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو‘‘۔ (23 :71)
یہ صورتِ حال ہمیشہ غلط تقابل (wrong comparison) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues