علم کی شہادت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۵۱
علم کی شہادت
قرآن کی سورہ الانشقاق کی چند آیتیں یہ ہیں: فَلاَ أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَنْ طَبَقٍ فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ (84:16:20) یعنی پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ۔ اور رات کی اور اُن چیزوں کی جن کو وہ سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کی جب وہ پورا ہو جائے، کہ تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے، تو اُنھیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے:
...you will progress from stage to stage, so what is the matter with them that they believe not. (84:19-20)
قرآن کی یہ آیتیں ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اتریں ۔ اُس وقت ان آیتوں میں ایک ایسا بیان دیا گیا جو ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اکیسویں صدی کے بعد تک پھیلا ہوا تھا۔ بعد کے حالات نے قرآن کی اس پیشین گوئی کو عین درست ثابت کیا۔ یہ واقعہ، دوسرے واقعات کی طرح، اِس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا وند عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی اور مستقبل کے بارے میں اس قسم کا بیان دینے پر قادر نہیں۔ علم انسانی کی تاریخ بتاتی ہے کہ کائنات کے بارے میں انسان کا مطالعہ جاری رہا، یہاں تک کہ برٹش سائنس داں نیوٹن کے زمانے میں یہ فرض کر لیا گیا کہ کائنات کا بلڈنگ بلاک، مادہ (matter) ہے۔ مگر انسانی علم کا سفر مزید آگے بڑھا۔ بعد کی تحقیقات نے اس مفروضے کی تردید کر دی۔ جرمن سائنس داں آئن سٹائن کے زمانے میں یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ کائنات کا بلڈنگ بلاک، انرجی (energy) ہے۔ مگر انسانی علم کا یہ سفر مزید آگے بڑھا۔ بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ مفروضہ درست نہ تھا۔ فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کے زمانے میں یہ دریافت ہوا کہ کائنات کا بلڈنگ بلاک انٹیلیجنس (intelligence) ہے۔ انسانی علم کا یہ سفر جاری رہا، یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں علمی اعتبار سے یہ دریافت ہو گیا کہ کائنات میں ایک انٹیلیجنٹ ڈیزائن (intelligent design) موجود ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues