Al-Risala · March 2014 · page 54

پیغمبر کا کردار

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۵۴

پیغمبر کا کردار

قرآن کی سورہ ص میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: قُلْ مَاۤ اَسْـــئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ (38:86) یعنی کہو کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں :

Say, "I do not ask you for any recompense for this, nor am I a man of pretentions". اصل یہ ہے کہ دنیا میں کام کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک ہے مشن کے طور پر کرنا اور دوسرا ہے پروفیشن کے طور پر کرنا۔ پروفیشن کے طور پر کام کرنے والے کا نشانہ کسب مال یا کسب منفعت ہوتا ہے۔ مثلاً میڈیکل پروفیشن، لیگل پروفیشن، ٹیچنگ پروفیشن، وغیرہ۔ پروفیشن کے طور پر جو شخص کام کرے، وہ اُس وقت اپنے پروفیشن کو چھوڑ دیتا ہے یا بدل دیتا ہے جب کہ اس کو اپنے پروفیشن سے نفع نہ ملے، لیکن مشن کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مشن آدمی کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ ایسا آدمی نفع اور نقصان سے بلند ہو کر اپنے مشن کو جاری رکھتا ہے، یہاں تک کہ اسی حال میں اس کو موت آجاۓ۔ پیغمبر پورے معنوں میں ایک صاحب مشن انسان ہوتا ہے۔ اس کا مشن ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ پیغمبر کی رہنما اس کی اپنی معرفت ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کا رویہ، وہ دوسرے کے ردعمل سے اوپر اٹھ کر اپنا کام انجام دیتاہے- پیغمبر کا یہی نمونہ داعی سے بھی مطلوب ہے۔ حق کا داعی صرف وہ شخص ہے جو پیمبر کے اس نمونے پر پورا اترے، جس کا دعوتی اسلوب خالص حق کی معرفت کی بنیاد پر بنا ہو، جو کسی بھی اعتبار سے اجر کا طالب نہ ہو۔ مال یا شہرت یا مقبولیت یا کوئی بھی مادی انٹرسٹ (material interest) اس کا مقصود نہ ہو۔ اسی لیے دعوت کے کام کو دعوت الی اللہ کا کام کہا گیا ہے۔ داعی کو اس کی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ اس کی بات کو پسند کریں گے یا نا پسند ۔ وہ چیزوں کو صرف اللہ کی نسبت سے دیکھتا ہے، نہ کہ انسان کی نسبت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page