نقطۂ آغاز
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۵۵
نقطۂ آغاز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی اجتماعی معاملات میں کیا تھی۔ اس کے بارے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ما خیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرين، إلا اختار أيسرهما (صحيح البخاري، رقم الحديث: 6318) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو طریقوں میں سے ایک طریقے کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان طریقے کا انتخاب کرتے:
Whenever the Prophet had to choose between the two, he ’’آسان طریقہ‘‘ کیا ہے، آسان طریقہ دراصل پُر امن طریقہ (peaceful method) کا دوسرا نام ہے۔ زندگی میں اکثر پُر امن طریقہ کار اور متشددانہ طریقہ کار (violent method) کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ متشددانہ طریقہ کار کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ متشددانہ طریقہ کار میں ہمیشہ کسی سے ٹکراؤ کرنا پڑتا ہے، جب کہ پرامن طریقہ کار میں کسی سے ٹکراؤ کی ضرورت نہیں۔
موجودہ دنیا آزادی اور مسابقت (competition) کے اصول پر قائم ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ ایسے اسباب پیش آتے ہیں جو دو گروہوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا کر دیں۔ ایسے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنا، غیر پیغمبرانہ طریقہ ہے، اور ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر اپنے عمل کی پرامن منصوبہ بندی کرنا، پیغمبر کا طریقہ۔
خدا نے پیغمبر کے طریقے میں کامیابی رکھی ہے اور غیر پیغمبرانہ طریقے میں ناکامی۔ ایسی حالت میں، جو لوگ پیغمبر کے طریقے کو نظر انداز کریں اور وہ غیر پیغمبرانہ طریقے پر اپنی تحریک چلائیں، وہ اپنے لیے بیک وقت دو خطرے مول لے رہے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے نزدیک اُن کا ایمان بالرسول مشتبہ ہو جائے، اور دوسرے یہ کہ خدا کی اس دنیا میں ان کی تحریک کبھی کامیابی کی منزل تک نہ پہنچے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues