Al-Risala · March 2014 · page 56

سکون کا راز

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۵۶

سکون کا راز

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک مشہور درگاہ میں گئے۔ وہاں وہ قبر کے پاس آنکھ بند کر کے بیٹھے اور ایک گھنٹے تک مراقبہ (meditation) کرتے رہے۔ اُن کے بیان کے مطابق، وہاں اُن کو سکون حاصل ہوا۔ یہ کوئی ایک مثال نہیں، ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں اور ان کے بیان کے مطابق، وہاں ان کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ اِس ’’سکون‘‘ کا سرچشمہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے۔ یہ سکون کوئی حقیقی سکون نہیں ہوتا، وہ ایک فرضی سکون (false peace) ہوتا ہے جو خود اپنی نفسیات کی بنا پر ان کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر اُن سے مزید سوال کیا جائے تو وہ یقینی طور پر اس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہیں کر سکیں گے۔ ایسے لوگ ہمیشہ ایک موہوم عقیدے میں جیتے ہیں، نہ کہ عقلی طور پر دریافت کردہ حقیقت میں۔

اس قسم کا واقعہ عام طور پر ہندوستان جیسے ملک کا ایک ظاہرہ ہے۔ جو آدمی یہاں کے ماحول میں پیدا ہوتا ہے، وہ بچپن سے ماضی کے بزرگوں کی کہانیاں سنتا ہے جو زیادہ تر فرضی اور افسانوی ہوتی ہیں۔ آدمی جب بڑا ہوتا ہے تو یہ کہانیاں اس کے لاشعور کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں۔ عقلی تجزیہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ اُن کہانیوں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ ایسے آدمی کو جب زندگی کے عملی تجربات ہوتے ہیں تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ جزئی یا کلی طور پر ذہنی سکون (peace of mind) سے محروم ہو گیا۔ اِس وقت اس کو تلاش ہوتی ہے کہ کوئی چیز ہو جو اس کو ذہنی سکون دے سکے۔

اس نفسیاتی حالت میں اُس کو ماضی کے اُس بزرگ کی یاد آتی ہے جن کی مفروضہ تصویر کی بنا پر وہ سمجھتا رہا ہے کہ وہ عام انسانوں کے مقابلے میں ایک برتر انسان تھے۔ اسی نفسیاتی حالت کے ساتھ وہ کسی بزرگ کی درگاہ میں جاتا ہے اور وہاں کے ایک گوشے میں آنکھ بند کر کے بیٹھتا ہے۔ اُس وقت، اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر، اس کو بظاہر ایک قسم کا سکون محسوس ہوتا ہے، مگر اس قسم کا سکون ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ مستقل سکون وہ ہے جو شعوری عمل کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہو، نہ کہ محض موہوم عقیدے کی بنا پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page