قرآن خوانی یا قرآن ڈسٹری بیوشن
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۵۸
علم کی اہمیت
علم کی اہمیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من جاءہ الموت وهو يطلب العلم ليحيي به الإسلام فبينه وبين النبيين درجۃ واحدة في الجنة (سنن الدارمي، رقم الحدیث: (354) یعنی جس شخص پر اس حال میں موت آئے کہ وہ علم اس لیے سیکھ رہا ہو، تاکہ وہ اُس کے ذریعے اسلام کا احیا کرے، تو جنت میں اُس کے اور پیغمبروں کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہوگا۔
اس حدیث کا مطلب بوقتِ مرگ علم سیکھنا نہیں ہے، بلکہ تادمِ مرگ علم کی طلب میں مشغول رہنا ہے۔ علم کے معاملے میں اصل تفریق علمِ دین اور علمِ دنیا کی نہیں، بلکہ یہ فرق نیت کے اعتبار سے ہے۔ دنیا کا علم بھی عین علمِ دین بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص نے اگر دین کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا ہو، اٗس نے پیغمبرانہ مشن کو اپنی زندگی کا نشانہ بنا رکھا ہو تو اس کا ہر علم پیغمبرانہ مشن کے لیے استعمال ہونے لگے گا۔ ہر علم اٗس کے یقین میں اضافہ کرے گا اور ہر علم اس کے لیے اس کے مشن کی تقویت کا ذریعہ بن جائے گا۔ علم کی طلب کوئی وقتی چیز نہیں۔ ایک سچا مومن اپنی پوری عمر کے لیے علم کا طالب بن جاتا ہے۔ اگر آدمی کے اندر صحیح معنوں میں علم کا ذوق ہو تو وہ اپنے ہر تجربے میں علم کا رزق پا تا رہے گا۔ وہ کسی کتاب کا مطالعہ کرے گا تو اس کا ذوق کتاب کے ہر مضمون کو اس کے لیے حصولِ علم کا ذریعہ بنادے گا ۔ وہ کسی سے گفتگو کرے گا تو وہ اپنے جذبہ تعلّم (spirit of learning) کی بنا پر اٗس سے نئی نئی باتیں اخذ کر لے گا۔ وہ کسی چیز کا مشاہدہ کرے گا تو ہر مشاہدے میں وہ اپنے لیے عبرت کا سامان پالے گا، حتیٰ کہ اگر اس کے اندر علمی ذوق بھر پور طور پر زندہ ہو تو وہ اپنے مثبت ذہن کی بنا پر بے علموں سے بھی علم حاصل کرے گا اور بے ادبوں سے بھی وہ ادب کا کوئی پہلو سیکھ لے گا۔ حصولِ علم کے معاملے میں اصل اہمیت ذوق کی ہے، نہ کہ محض واقفیت کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues