Al-Risala · March 2014 · page 59

ایک پیغمبرانہ اسوہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۵۹

ایک پیغمبرانہ اسوہ

رسول اور اصحابِ رسول کی تاریخ اپنے مختلف پہلوؤں کے ساتھ انسان کے لیے ایک ابدی گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھیں اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آنے والے ایک واقعے سے ملتا ہے۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مدینہ میں 632 عیسوی میں ہوئی۔ اس کے بعد وہاں وہی مسئلہ پیدا ہوا جو عام طور پر کسی بڑے لیڈر کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے، یعنی یہ سوال کہ۔ لیڈر کے بعد کون۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرِ اسلام کی وفات کی خبر سننے کے بعد مسلمانوں میں عام طور پر سراسیمگی پیدا ہوگئی۔ اس بحران (crisis) کے موقع پر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے۔ انھوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من كان يعبد محمدا فإن محمد ا قدمات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت (صحيح البخاري، رقم الحديث : 3668) یعنی جو شخص محمد کو پوجتا تھا تو محمد پر موت آچکی ، اور جو شخص اللہ کو پوجتا ہے، تو اللہ زندہ ہے اور اس پر موت آنے والی نہیں۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کا جملہ ایک اہم ترین حقیقت کو بتا رہا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کو مسلسل کنٹرول کرنے والا اللہ ہے، نہ کہ کوئی انسان۔ ایک قائد جب تاریخ کی قیادت کر رہا تھا، اُس وقت بھی اس کی پشت پر اللہ تھا اور قائد کے رخصت ہو جانے کے بعد یہ اللہ ہی ہے جو تاریخ کے نظم کو سنبھالنے والا ہے (هو الأول والآخر)۔

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے مذکورہ الفاظ نے اہل ایمان کو ایک نیا حوصلہ دے دیا۔ وہ نئے عزم کے ساتھ پیغمبرانہ مشن کی تکمیل میں سرگرم ہو گئے۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اُسی سال اہلِ یمن کی بغاو ت کا واقعہ پیش آیا۔ یہ ایک انتہائی نازک معاملہ تھا۔ مختلف اسباب سے لوگ اس بغاوت کے خلاف اقدام کے معاملے میں سخت متردد تھے۔ اُس وقت دوبارہ حضرت ابو بکر صدیق نے لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی۔ اُس وقت

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page