I will do it.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۰
انھوں نے یہ مشہور تاریخی جملہ کہا: أينقص الدين وأنا حي (هداية الرواة لابن حجر العسقلاني، رقم الحديث: 3031) یعنی کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ قول بظاہر ایک انفرادی قول تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک اجتماعی قول تھا۔ وہ گویا پوری جماعت صحابہ کے دل کی آواز تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے گویا اپنے اس تاریخی قول کے ذریعے لوگوں کو یاد دلا یا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی صورت میں جو ٹیم چھوڑی ہے، اُن میں سے ہر شخص اس اسپرٹ کا حامل ہے کہ میں اس کام کو کروں گا:
I will do it.
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے اس کلمہ نے ہر ایک کو آخری حد تک بیدار کر دیا۔ ہر ایک ہیرو دانہ اسپرٹ (heroic spirit) کے ساتھ ہمہ تن سرگرم ہو گیا۔ ہر ایک کے اندر یہ انقلابی سوچ ابھر آئی کہ یہ میری ذمہ داری ہے اور مجھے زندگی کی آخری سانس تک اس ذمے داری کو انجام دینا ہے۔ اس سلسلے میں دوسری چیز وہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نصیحت سے معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے اپنے آخری لمحات میں اپنے اصحاب کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ترکت فیکم أمرين، لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة نبيه (موطأ الإمام مالك، رقم الحديث: (1619) یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑا ہے۔ جب تک تم ان کو پکڑے رہو گے، تم ہر گز گمراہ نہ ہو گے۔ یہ دونوں چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ قرآن اور سنت کیا ہے، وہ گویا اسلام کا مستند لٹریچر ہے۔ اس کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام نے اپنے بعد دو چیزیں چھوڑیں - اسٹرانگ ٹیم اور اسٹرانگ لٹریچر - یہ دو چیزیں اس بات کی ضامن تھیں کہ آپ کے بعد آپ کا مشن پوری طاقت کے ساتھ چلتا رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ جائے ۔ اس معاملے میں یہ بھی ایک پیغمبرانہ اسوہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ایک لیڈر اگر ایسا کرے کہ وہ اپنے بعد ایک ڈیڈی کیٹیڈ ٹیم (dedicated team) اور ایک طاقت ور لٹریچر (strong literature) چھوڑے تو یہ اس کے مشن کی زندگی کی قطعی ضمانت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues