Al-Risala · March 2014 · page 64

اصولِ عملیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۴

موقع دیا گیا ہے کہ وہ حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے لیے کوئی مناسب روش اختیار کریں۔ اسلام میں فرد کے دین اور اجتماع کے دین کے درمیان تفریق کا یہ اصول اُس مشہور اصول کی بنیاد پر نہیں ہے جو مغرب میں چرچ اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کے بعد پیدا ہوا اور جس کو مذہب اور سیاست کے درمیان علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مغرب کا اصول مطلق تفریق یا نظریاتی تفریق کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے برعکس، اسلام میں فرد اور اجتماع کے درمیان جو تفریق ہے، وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان پائے جانے والے فطری فرق کے اصول پر مبنی ہے، یعنی تقریباً وہی اصول جس کو عام طور پر اس مقولے میں بیان کیا جاتا ہے کہ— سیاست ممکن کا آرٹ ہے: Politics is the art of the possible. اجتماعی اور انفرادی اصول کے درمیان فرق کی حکمت خالق نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ انسانی آزادی خالق کے منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے جس کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی بنا پر فرد اور اجتماع کا معاملہ ایک دوسرے سے الگ ہو جاتا ہے۔ چناں چہ جہاں تک فرد کا معاملہ ہے، ہر فرد کی زندگی اس کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے، لیکن فرد سے باہر جو انسانی مجموعہ ہے، اس کا معاملہ کسی کے اختیار میں نہیں۔ گویا حرکیاتِ فرد کا اصول الگ ہے اور حرکیات اجتماع کا اصول الگ۔

ایک فرد اپنی ذاتی زندگی میں کوئی دینی مسلک اختیار کرے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، لیکن جب آپ اجتماعی زندگی، یعنی سماجی نظام یا سیاسی نظام میں کوئی تبدیلی لانا چاہیں تو فوراً ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو جائے گا، کیوں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ سماجی اور سیاسی نظام پر کوئی شخص یا گروہ پہلے سے اپنا اقتدار قائم کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جب آپ سماجی اور سیاسی نظام میں تبدیلی کا علم بلند کرتے ہیں تو فوراً ہی آپ کا ٹکراؤ اُن لوگوں سے شروع ہو جاتا ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اُن کو اُن کے اقتدار کے منصب سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اس قسم کی معزولی کو برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ فوراً اپنے دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر طرفین کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page