Al-Risala · March 2014 · page 65

پریکٹکل فارمولا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۵

تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کے معاملے میں کسی ایک فریق کی جیت کبھی لڑائی کا خاتمہ نہیں کرتی، کیوں کہ جو فریق ہارتا ہے، وہ فوراََ ہی انتقام (revenge) کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے دوبارہ ایک نئی جنگ چھیڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی جوابی کارروائی کی پوزیشن میں نہ ہو، تب بھی وہ خودکش بم باری شروع کر دیتا ہے، تا کہ اگر وہ فریق ثانی کو ہرا نہیں سکتا تو کم از کم اس کو نقصان پہنچائے یا اُس کو کم از کم غیر مستحکم (destabilise) کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ’’کامل دین‘‘ کے نام پر اس اصول کو اختیار کر لیا جائے کہ فرد نے جس دین کو اپنے لیے اختیار کیا ہے، اُسی دین کو اُسے اجتماع پر بھی نافذ (implement) کرنا ہے، تو اس کے نتیجے میں دونوں فریق کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں، بلکہ یہی پوری تاریخ کا عملی تجربہ ہے۔

پریکٹکل فارمولا

ایسی حالت میں خالق کے منصوبے کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام میں ایک ایسا اصول بتایا گیا جو ہمیشہ کے لیے امن کا ضامن بن جائے، جو ہر حال میں امن کے قیام کو یقینی بنانے والا ہو۔ کیوں کہ کسی بھی قسم کی تعمیر کے لیے امن لازمی طور پر ضروری ہے امن نہیں تو تعمیری سرگرمیاں بھی نہیں۔ مذکورہ صورت حال کی بنا پر اجتماع کے لیے کوئی معیاری فارمولا ممکن نہیں، اس لیے اسلام میں ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ایک ایسا فارمولا اختیار کیا گیا ہے جس کو اس معاملے میں پریکٹکل فارمولا (practical formula) کہا جا سکتا ہے۔ اس فارمولے کو قرآن میں اَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ (42:38) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی اجتماعی معاملے میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے گا جس پر اجتماعی مشورے کے بعد لوگ راضی ہو جائیں۔

شوریٰ یا جمہوریت کا اصول

اجتماعی معاملے میں کسی مطلق معیار کے بجائے لوگوں کی رائے سے فیصلہ کیا جانا کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک اہم اجتماعی اصول ہے۔ جب انسانی مجموعہ یا مجتمع (human society) کا معاملہ ہو تو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page