Al-Risala · January 2014 · page

اسفل سافلین کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

اُس مچھلی کی طرح رہنا پڑتا ہے جو پانی کے باہر کسی غیر آبی جگہ پر ہو۔ اگرچہ اس دنیا میں پھل اور میوے ہیں، اگر چہ اس دنیا میں سر سبز پہاڑ ہیں، اگرچہ اس دنیا میں متمدن آبادیاں ہیں، پھر بھی انسان کو اس دنیا میں ذہنی سکون حاصل نہیں۔ انسان اپنی زندگی کے اس تباین پر غور کرے تو وہ ایک عظیم حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ موجودہ دنیا اس کا یہی ٹھیٹ نہیں۔

اسفل سافلین کیا ہے

اس نکتے کو ذہن میں رکھ کر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسفل سافلین سے مراد کوئی پر اسرار چیز نہیں ہے۔ اس سے مراد یہی موجودہ زمین ہے۔ موجودہ زمین کا اسفل سافلین ہونا خود زمین کی نسبت سے نہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، معیار پسند ہے۔ موجودہ زمین چوں کہ ہر اعتبار سے آئڈیل سے کم (less than ideal) ہے، اس لیے عملاً وہ انسان جیسی مخلوق کے لیے اسفل سافلین بن جاتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے بعد سورہ التین کا پورا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ اس سورہ کے ابتدائی الفاظ علامتی الفاظ ہیں۔ اس میں انجیر اور زیتون کے الفاظ سے زمین کی روئیدگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی بنا پر یہاں پھل اور اناج جیسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جبل طور سے مراد زمین کے لیے پہاڑوں کی وہ اہمیت ہے جس کا ذکر قرآن کے مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ بلد امین سے مراد موجودہ زمین کی وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پر یہاں شہر آباد ہوتے ہیں اور انسانی تہذیب ظہور میں آتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمین ایک استثنائی کرہ ہے۔ یہاں جو حالات ہیں، وہ کائنات کے کسی اور کرہ پر موجود نہیں۔ مگر یہاں ایک فرق ہے، وہ یہ کہ انسان اپنی ذات میں ایک معیار پسند مخلوق ہے، جب کہ موجودہ زمین دار الامتحان کے طور پر بنائی گئی ہے، اس لیے وہ انسانی معیار کے مطابق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے عملاً دار الکبد بن جاتی ہے، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں انسان کو چین اور سکون حاصل نہیں۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک عدم مطابقت (disparity) پائی جاتی ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کی حیثیت ایک ایسے طالب کی ہے جس کا مطلوب اس کو یہاں حاصل نہیں۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page