اسفل سافلین کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
ایک عدم مطابقت (disparity) پائی جاتی ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کی حیثیت ایک ایسے طالب کی ہے جس کا مطلوب اس کو یہاں حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمین پر پیدا ہونے والے تمام عورت اور مرد بے سکونی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسی حال میں مر جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة (صحيح مسلم، رقم الحديث: 1805) یعنی انسان کو اس کی مطلوب زندگی تو صرف آخرت میں مل سکتی ہے۔ قرآن کی اس سورہ میں اسفل سافلین کا لفظ خارجی حالات کی نسبت سے نہیں آیا ہے، بلکہ وہ انسان کی اپنی داخلی نفسیات کی نسبت سے آیا ہے، یعنی ایک ایسی مخلوق جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے، احسن تقویم ہے، اس کے لیے یہ دنیا عملاً اسفل سافلین کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ انسان کے لیے یہاں رہنا ایسا ہی ہے جیسے مچھلی کا پانی کے باہر رہنا۔
انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ایک سراغ (clue) ہے۔ وہ عدم مطابقت یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جس ہیبی ٹیٹ کا طالب ہے، زمین اس کے لیے وہ ہیبی ٹیٹ نہیں۔ یہ عدم مطابقت انسانی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر غور کر کے انسان ایک عظیم حقیقت کو دریافت کر سکتا ہے، یعنی یہ حقیقت کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اپنے آپ کو کامیاب بنانے کے لیے اس کو کیا کرنا چاہئے- سورہ کے اگلے الفاظ اسی بات کا جواب ہیں۔ سورہ کے اگلے الفاظ یہ ہیں: اِلَّا الَّذِيْنَ اَمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے تخلیقی منصوبے کو دریافت کریں اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کریں تو موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا (جنت) میں داخل کیے جائیں گے، جو اُن کا مطلوب ہیبی ٹیٹ ہوگا اور اس بنا پر وہاں عدم مطابقت کا مسئلہ باقی نہ رہے گا۔ اس دنیا میں اُن کو اپنی مطلوب زندگی مل جائے گی جس کو قرآن میں غیر ممنون اجر (unending award) کہا گیا ہے۔ اجرِ غیر ممنون قرآن کی اس آیت میں اجرِ غیر ممنون کا لفظ ایک ذو معنی لفظ ہے، یعنی بلاغت کے اصول
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues