Al-Risala · March 2014 · page 74

شہادت عظمیٰ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۷۴

پیش کیا جا سکے۔ گویا شہادتِ عظمیٰ کے دو تقاضے موجودہ زمانے میں پہلی بار انسان کی دسترس میں آئے ہیں ۔ عالمی مواصلات اور عقل انسانی کی مسلمہ سطح پر حقائق کا اثبات۔

حدیثِ رسول کے مطابق، دور آخر میں شہادتِ عظمیٰ کا جو واقعہ ظہور میں آنے والا ہے، وہ حدیث کے مطابق، ایک ایسا واقعہ ہو گا جو اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ اُس کے لیے ضروری ہے کہ انسانی علم عقلی ارتقا کے اعلیٰ درجے تک پہنچ چکا ہو۔ اسی کے ساتھ وہ تمام وسائل موجود ہو چکے ہوں جو اس طرح کی عالمی شہادت کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام وسائل پوری طرح وجود میں آچکے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ موجودہ زمانہ ہی وہ زمانہ ہے جب کہ شہادتِ عظمیٰ کا وہ واقعہ ظہور میں آئے جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں کی گئی ہے۔

خلاصہ کلام

اسلام میں انفرادی دین اور اجتماعی دین کے بارے میں یہاں جو کچھ کہا گیا، وہ اس معاملے میں کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ اس کی حیثیت صرف یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں بالفعل جو کچھ پیش آیا، یہاں اس کی ایک قابلِ قبول توجیہہ (acceptable explanation) بیان کی گئی ہے۔ اس توجیہہ کی روشنی میں اسلام کی تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جاتی ہے۔ اس کے بعد تاریخ کے بارے میں یہ نظر آنے لگتا ہے کہ جو کچھ ہوا، وہ قانونِ فطرت کے مطابق ہوا اور اجتماعیات کے معاملے میں اسلام کا اصول وہی ہے جو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، فطرت کا اصول ہے۔

یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جو خالص معیار (ideal) سے مطابقت نہ رکھتے تھے۔ مثلاً خلیفہ یا امیر المومنین کے تقرر کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنا۔ بعد کے زمانے میں حکومتی ادارے کا خاندانی حکومت (dynasty) کی صورت اختیار کر لینا، اہلِ اسلام کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا اور ان کے درمیان پر تشدد ٹکراؤ پیش آنا، بیت المال کے نظام میں بظاہر خلل واقع ہونا، وغیرہ۔

اسلام کی بعد کی تاریخ میں جو واقعات پیش آئے، وہ بظاہر معیار کے مطابق نہ تھے۔ اس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page