Al-Risala · March 2014 · page 73

شہادت عظمیٰ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۷۳

پہنچانا۔ تمام انبیا کا مشن یہی دعوت الی اللہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی دعوتی مشن کے لیے کام کیا۔ یہ دعوتی مشن پوری تاریخ میں جاری رہا۔ عالمی ابلاغ کے اعتبار سے، اس کا کامل اظہار دورِ آخر میں ہوگا۔ اس کامل اظہار کو ایک حدیثِ رسول میں شہادتِ عظمیٰ کہا گیا ہے، یعنی تمام انسانیت کے سامنے اللہ کے دین کی عالمی گواہی (هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين)۔ احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہادتِ عظمیٰ یا عالمی گواہی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مطابق، وسائل دستیاب ہو چکے ہوں۔ اس معاملے کے دو پہلے ہیں ـــــ ایک یہ کہ اس طرح کی عالمی شہادت کے لیے عالمی مواصلات (global communication) لازمی طور پر ضروری ہے۔ بیسویں صدی میں عالمی مواصلات کے معاملے میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے، یہاں تک کہ موجودہ زمانے کو مواصلات کا زمانہ (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس واقعے میں اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ زمانے میں پوری طرح وہ وقت آگیا ہے کہ شہادتِ عظمیٰ یا عالمی دعوت کا کام موثر طور پر انجام دیا جاسکے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف مکمل معنوں میں مذہبی آزادی آگئی ہے اور دوسری طرف مواصلات کی ترقی نے اس بات کو آخری حد تک ممکن بنا دیا ہے کہ کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی دعوت کا کام کیا جاسکے۔ یہ وہی کام ہے جس کو حدیث میں ’ادخال الكلمة في کل البیوت‘ کہا گیا ہے۔

اس سلسلے میں دوسری بات وہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں آیا ہے۔ شہادتِ عظمیٰ کی روایت میں ’حجيج‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی مطلوب دعوت کے کام کو حجت یا دلیل کی سطح پر انجام دینا۔ یہ بھی موجودہ زمانے کی ایک خصوصیت ہے۔ چناں چہ موجودہ زمانے کو دورِ تعقل (age of reason) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں علم کی ترقی کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ عقلی ڈیٹا (rational data) کی بنیاد پر کسی بات کو مدلل کیا جاسکے۔

زمانے کی یہ تبدیلی بھی حدیث کی پیشین گوئی کے عین مطابق ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اسلام کی صداقت کو عقلِ انسانی کی بنیاد پر مدلل کر کے اس کو انسان کے سامنے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page