استثنائی شخصیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۸۲
استثنائی شخصیت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں مکہ میں ہوئی ۔ 610ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ پوری تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت تھے۔ آپ کا استثنائی شخصیت ہونا اپنے آپ میں اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت حاصل تھی۔ خداوندِ کائنات کی خصوصی نصرت کے بغیر کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ پوری تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت بن جائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس استثنائی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے ایک مکمل کتاب درکار ہے۔ یہاں آپ کی استثنائی شخصیت کے چند پہلو مختصر طور پر درج کیے جاتے ہیں۔
اظہارِ دین
قرآن کی سورہ الفتح میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (48:28) یعنی یہ اللہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُس کو تمام دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔
قرآن کے اس بیان میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دینِ خداوندی کے اعلان کے لیے بہت سے لوگ اٹھے، لیکن اُن کا کام اعلان کے درجے تک محدود رہا، وہ انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر اسلام کا مشن اللہ کی خصوصی نصرت سے نظریاتی انفجار (ideological explosion) تک پہنچ گیا۔ آپ کے ذریعے افکار کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ آپ کو تاریخ ساز پیغمبر (epoch-making prophet) کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انقلابی صفت کا اعتراف مختلف مورخین نے کھلے طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues