Al-Risala · March 2014 · page 85

استثنائی شخصیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۸۵

یہ کام اس طرح انجام پایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک ایسا عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں فطرت کے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ قوانین فطرت معجزہ کا بدل بن گئے۔ ان قوانین کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ بعد کے زمانے میں سائنسی دلائل کی طاقت سے وہ دعوتی کام انجام دیا جاسکے جو پہلے معجزہ کی طاقت سے انجام دیا جاتا تھا، گویا کہ پیغمبر اسلام سے پہلے دعوت بذریعہ معجزہ (dawah through miracle) کا زمانہ تھا اور اب دعوت بذریعہ علمی دلائل (dawah through scientific argument) کا زمانہ ہے۔

قرآن کی سورہ الاسراء میں پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ: عَسَىٰ أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (17:79) یعنی قریب ہے کہ تمھارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے۔ اس آیت میں مقام محمود کسی پر اسرار واقعے کا نام نہیں ہے۔ اُس سے مراد ایک معلوم واقعہ ہے جو تاریخ میں مسلمہ طور پر پیش آیا۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، وہ مستند تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکے۔ پیغمبروں کی فہرست میں پیغمبر اسلام پہلے پیغمبر ہیں جو مستند تاریخ میں درج کیے گئے۔ ایک مغربی مورخ نے اس کا اقرار ان الفاظ میں کیا ہے محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے : Muhammad was born within the full light of history. حقیقت یہ ہے کہ نبی محمود سے مراد نبی مُعترف (acknowledged prophet) ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی میں آپ کو اتنا کم سمجھا گیا کہ مکہ کے مخالفین آپ کو مذمم (condemned person) کہنے لگے۔ لیکن آخر کار تاریخ آپ کے موافق ہوگئی۔ عام طور پر مورخین اور مبصرین آپ کی عظمت کا اعتراف کرنے لگے۔

ان میں سے ایک مثال امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کی ہے۔ انھوں نے تمام دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کرکے ایک ضخیم کتاب تیار کی۔ اُس کا عنوان ایک سو (The Hundred) ہے۔ اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کی ایک سو بڑی شخصیتوں کا تذکرہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں پیغمبر اسلام کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page