استثنائی شخصیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۸۴
پیدا کیا ہے۔ اُس کا مقصد تخلیق کیا ہے۔ اس کے لیے کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ ہر عورت اور مرد اس سوال سے لازمی طور پر دوچار ہوتے ہیں، خواہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر۔ اس سوال کا معتبر جواب صرف خالق دے سکتا ہے۔ یہ صرف خالق ہے جو یہ بتا سکتا ہے کہ انسان اور کائنات کو پیدا کرنے سے اُس کا منصوبہ تخلیق (creation plan) کیا ہے۔ قرآن اور پیغمبر قرآن کے ذریعے خدا نے اس سوال کا معتبر جواب فراہم کیا ہے۔ اب ہر انسان کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے:
It became possible for everyone to know the creation plan of God. پہلے زمانے میں حنفاء ہوا کرتے تھے، یعنی متلاشی حق۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی شخص اپنی تلاش حق کو دریافت بنا سکے:
Truth-seekers no longer need to live in bewilderment. نشانیوں کا ظہور قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بعد کی تاریخ کے لیے ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، کائنات میں بھی اور انسان کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، انھوںنے خرقِ عادت معجزے دکھائے۔ یہ معجزے اُن کے معاصرین کے لیے اُن کے پیغمبر ہونے کی دلیل تھے۔ حسّی معجزہ معاصرین کے لیے دلیل ہوتا ہے، بعد کے لوگوں کے لیے وہ دلیل نہیں ہوتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے، یعنی قیامت تک کے لیے پیغمبر۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پیغام کی پیغام رسانی اہلِ عالم کے لیے جاری رہے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues