خاتم النبیین
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۳۸
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد یہ ہوا کہ ایک نیا دورِ دعوت وجود میں آیا، وہ تھاـــــ براہِ راست پیغمبر کی ذات کے ذریعے دعوت کے دور کا خاتمہ، اور پیغمبر کے ماننے والوں کے ذریعے دعوت کے دور کا آغاز:
End of dawah through the Prophet, beginning of dawah through the followers of the Prophet, continuation of the prophetic role through the followers of the Prophet. فتحِ مبین قرآن کی سورہ نمبر 48 معاہدہ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ معاہدہ حدیبیہ امن کا معاہدہ تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کا مقصد تھاـــــ جنگ کے حالات کو ختم کرکے امن کے حالات پیدا کرنا۔ اس معاہدے کے بعد پیغمبرِ اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان مکمل طور پر جنگ بندی ہوگئی اور طرفین کے درمیان امن کی حالت قائم ہوگئی۔ اس کے بعد معتدل حالات میں دعوتی کام کرنا ممکن ہو گیا۔ امن کا یہ معاہدہ پوری تاریخ کا ایک انوکھا معاہدہ تھا۔ یہ فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر انجام پایا تھا۔ بظاہر وہ پسپائی کا ایک معاہدہ تھا، لیکن معاہدے کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ تاریخ کے مطابق، معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ یہ معاہدہ بظاہر فریقِ ثانی کے مقابلے میں شکست کا واقعہ تھا، نہ کہ فتح کا واقعہ۔ اس کے باوجود قرآن میں کیوں اُس کو فتحِ مبین کہا گیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد دعوت کے تمام مواقع کھل گئے۔ یہ مواقع اتنے غیر معمولی تھے کہ معاہدے کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبرِ اسلام کے ساتھیوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ ہوگئی۔ اور جنگ کے بغیر صرف زیادہ تعداد فیصلے کے لیے کافی ہوگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues