Al-Risala · January 2014 · page

اسفل سافلین کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

کے مطابق، اس لفظ میں مذکور معنی کے ساتھ ایک غیر مذکور معنی بھی پوشیدہ ہے، یعنی اجر غیر ممنون کے ساتھ اجر ممنون کا تصور، یا غیر منقطع اجر کے ساتھ منقطع اجر کا تصور۔

اس آیت میں آخرت کے اجر کو غیر ممنون (غیر منقطع) اجر بتایا گیا ہے۔ یہ لفظ دنیا کے اجر کے مقابلے میں آیا ہے، کیوں کہ دنیا کا اجر ممنون (منقطع) اجر ہے اور آخرت کا اجر، غیر ممنون (غیر منقطع) اجر ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کا اجر عارضی اجر ہے اور آخرت کا اجر ابدی اجر۔ یہ فرق بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اجر کا ممنون (منقطع) اجر ہونا ہی وہ چیز ہے جو دنیا کو اسفل سافلین بنا دیتا ہے، کیوں کہ انسان کا معیار پسند ذہن معیار سے کم پر راضی نہیں ہوتا۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے صرف معیار پر مطمئن ہو سکتا ہے، معیار سے کم پر مطمئن ہونا بہ اعتبار مزاج اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کا یہی مزاج ہے جو موجودہ دنیا کو اس کے لیے دار الکبد بنا دیتا ہے۔ موجودہ دنیا مطلق معنوں میں دار الکبد نہیں ہے۔ انسان کے معیار پسندانہ ذہن کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا اس کو ایک ایسی جگہ محسوس ہونے لگتی ہے جو گویا کہ اس کے لیے دار الکبد ہو۔ اللہ نے دنیا کو دار الکبد کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے، یہ انسان کا اپنا مزاج ہے جس کی بنا پر دنیا اس کو دار الکبد نظر آتی ہے۔ یہ معاملہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ تخلیق کی نسبت سے۔

سورہ کے آخر میں فرمایا: اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَحۡکَمِ الۡحٰکِمِیۡنَ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں جو عدم مطابقت ہے یا طالب کو اس کا مطلوب حاصل نہیں، یہ خالق کی حکیمانہ شان کے خلاف ہے۔ لازماً ایسا ہونا چاہیے کہ خالق کی حکیمانہ شان کا ظہور ہو، اس عدم مطابقت کا خاتمہ ہو اور طالب کو اس کا مطلوب مل جائے۔ آخرت اسی شانِ خداوندی کے ظہور کا دن ہے۔

خلاصہ کلام

سورہ التین میں جو بات رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ کے الفاظ میں کہی گئی ہے، وہی بات دوسری سورتوں میں دوسرے الفاظ میں کہی گئی ہے۔ مثلاً لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡ کَبَدٍ اور اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ وغیرہ۔ قرآن کے الفاظ پوری انسانی تاریخ پر منطبق ہوتے ہیں۔ اول دن سے اب تک جو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page