Al-Risala · March 2014 · page 47

ایک اور موقع

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۷

ڈویلپمنٹ کا طریقہ وہ مکمل طور پر ترک کر دیں۔

انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ صفت وہ ہے جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality) کہا جاتا ہے۔ ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے۔ انسان کی اسی تخلیقی صفت سے اختلافِ رائے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر اختلافِ رائے ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے گرفت سے بچ جائے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس معاملے میں محفوظ موقف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی فہم کی نسبت سے آزاد ہو، لیکن حکم لگانے کا حق کسی کو حاصل نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ آزادی ہو کہ وہ دیانت داری (honesty) کے ساتھ جس چیز کو حق سمجھے، اُس پر قائم رہے۔ دوسرے شخص کے بارے میں اگر وہ محسوس کرے کہ اس کی رائے غلط ہے تو اس اختلاف کی بنا پر وہ دوسرے شخص کے بارے میں حکم نہ لگائے۔ وہ اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجے میں رکھے، وہ اس کو فیصلہ (judgement) کے درجے تک نہ لے جائے۔ یہ وہی بات ہے جس کو سیکولر علما ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: Everyone has the right to dissent, but no one has the right to pass value judgement.

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page