Al-Risala · March 2014 · page 46

ایک اور موقع

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۶

کمیونسٹ مینی فیسٹو کے ذریعے ملے۔

یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ قرآن معروف انداز کے مطابق، اکیڈمک اسلوب پر نہیں ہے، اس کا اسلوب داعیانہ اسلوب ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا۔ اس کے مقابلے میں کئی لوگوں نے اسلام کے موضوع پر ایسی کتابیں لکھی ہیں جو خالص اکیڈمک اسلوب کے مطابق تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کتابوں کی بنیاد پر کبھی کوئی اسلامی مشن کھڑا نہ ہوسکا۔ اس قسم کی کتابیں صرف لائبریری کی الماریوں میں پائی جاتی ہیں۔ انسانوں کی زندگی کو بدلنے میں اُن کا کوئی رول نہیں۔ انسان کی نسبت سے صرف داعیانہ اسلوب موثر ہے، نہ کہ اکیڈمک اسلوب۔

سوال

میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہوں اور اُس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ اس موضوع پر اکثر لوگوں سے بحث ہوتی رہتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس قسم کا بیان درست ہے کہ۔ الرسالہ مشن کے لوگ حق پر ہیں اور مثلاً جماعت اسلامی کے لوگ باطل پر۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبداللطیف، پاکستان)

جواب

یہ کہنا کہ فلاں شخص یا گروہ حق پر ہے اور فلاں باطل پر، یہ ہمارے مشن کی زبان نہیں۔ یہ ویلو ججمنٹ (value judgement) کا طریقہ ہے، یعنی لوگوں پر شرعی حکم لگانا۔ کسی پر شرعی حکم لگانا ہمارا طریقہ نہیں۔ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے پیش کرتے ہیں۔ اگر کسی کو ہمارے نقطہ نظر سے اختلاف ہے تو وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے اس کو رد کر سکتا ہے۔ لوگوں کے اوپر شرعی حکم لگانے کا حکم نہ ہم کو ہے اور نہ دوسروں کو۔ بدقسمتی سے امت کے درمیان ویلو ججمنٹ کا طریقہ بہت عام ہے۔ اختلاف کے بعد فوراً ہی لوگ کافر، منافق، بدنیّت جیسے الفاظ بولنے لگتے ہیں۔ اس اسلوب کا نقصان تو یقینی ہے، لیکن اس کا فائدہ کچھ بھی نہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر منفی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ امت میں اختلاف اور انتشار کا ماحول بنتا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page