یہود کی ایک روش
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴
یہود کی ایک روش
یہود کی ایک روش کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِیرًا (91:6) یعنی یہود کو جو آسمانی کتاب دی گئی تھی، اس کو انھوں نے ورق ورق کر دیا۔ کچھ کو ظاہر کیا اور زیادہ کو ظاہر نہیں کیا۔
اس آیت میں ’قرطاس‘ سے مراد کا غذ یعنی ایک مادی چیز ہے اور جس چیز کو انھوں نے ظاہر کیا اور چھپایا، وہ ایک معنوی چیز تھی۔ اس آیت میں بظاہر ایک مادی تقطیع کا ذکر ہے، لیکن اس سے مراد مادی تقطیع نہیں، بلکہ معنوی تقطیع ہے۔
یہ وہ واقعہ ہے جو یہود کے دورِ زوال میں پیش آیا، وہ تقطیع (separation) تھی کہ انھوں نے دینِ خداوندی کی اسپرٹ کو اس کے فارم سے جدا کر دیا ۔ ان کے علما اور مشائخ (احبار و رہبان) دینِ خداوندی کے فارم کا خوب چرچا کرتے تھے، لیکن دینِ خداوندی کی اسپرٹ کا کوئی چرچا ان کے یہاں نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دینِ خداوندی جو اصلاً مبنی بر اسپرٹ دین تھا، وہ عملاً مبنی بر فارم (form-based) دین بن گیا۔
یہ جو کچھ ہوا، وہ اصلاً ’’یہودیت‘‘ کا ظاہر نہیں تھا، بلکہ وہ دورِ زوال کا ظاہر تھا۔ ہر امت کے ساتھ اس کے دورِ زوال میں یہی واقعہ پیش آتا ہے، حتی کہ خود امتِ مسلمہ کے ساتھ بھی۔ قرآن کی اس آیت کا شانِ نزول جاننا ہو تو آپ بائبل کا مطالعہ کیجئے ۔ بائبل کے مطالعے سے یہ بات تفصیل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے کہ یہود نے تعلیماتِ الہیہ میں اس قسم کی تقطیع کر دی تھی ۔ وہ دینِ خداوندی کے معنوی پہلو کو چھوڑے ہوئے تھے اور دین کے ظاہری پہلو کو اس طرح بیان کرتے تھے جیسے کہ وہی اصل دین ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں ان الفاظ میں بیان کیا تھا: اے اندھے راہ بتانے والو، تم مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو (1: 22 Matthew)۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues