Al-Risala · April 2014 · page 18

میں نبیس جانتا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸

میں نبیس جانتا

عبداللہ بن وہب مصری (وفات : 197ھ) مالکی فقیہ اور محدث ہیں۔ وہ ہیں سال تک امام مالک کی صحبت میں رہے (صحب ال امام مالک عشرین سنۃ)۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ: لو شئت أن أملأ ألواحي من قول مالك بن أنس ”لا أدري“ فعلتُ ۔ (مجلة الوعي الإسلامي، كويت، فروری 2014، صفحہ: 97) یعنی مالک بن انس ”میں نہیں جانتا‘‘ اتنا کہتے تھے کہ اگر میں چاہوں تو میں اپنی تختیوں کو اُن کے اس قول سے بھر دوں کہ ”میں نہیں جانتا‘‘۔

یہ کہنا کہ ”میں نہیں جانتا‘‘ (لا ادری) کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک گہری حکمت (deep wisdom) کی بات ہے۔ ”میں نہیں جانتا‘‘ کہنا ایک عظیم نفسیاتی حقیقت کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک سوچنے والا انسان ہے، وہ مسلسل طور پر غور وفکر میں مشغول ہے۔ جو آدمی نہ بولے، وہ سوچ رہا ہے۔ جو آدمی جواب نہ دے، وہ سوال پر غور کر رہا ہے۔ کسی آدمی کے لیے فطرت کا سب سے بڑا تحفہ اس کا ذہن ہے۔ کسی آدمی کے لیے سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر تفکیری عمل (thinking process) جاری رہے۔ تفکیری عمل سے آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) آتی ہے، اُس کے اندر مسلسل طور پر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری رہتا ہے۔

یہی ذہنی ارتقا وہ چیز ہے جو انسان کی تمام اعلی ترقیوں کی ضامن ہے۔ ذہنی ارتقا انسان کو انسان بناتا ہے۔ جس شخص کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہ ہو، وہ بظاہر انسان ہوگا، لیکن بہ اعتبار حقیقت وہ حیوان کی مانند بن کر رہ جائے گا۔

کم بولنے کا مطلب ہے زیادہ سوچنا۔ میں نہیں جانتا کا مطلب ہے زیادہ غور کرنا۔ اسی طرح چپ رہنا زیادہ سنجیدگی (sincerity) کی علامت ہے یہی وہ صفات ہیں جو ایک عام انسان کو اعلیٰ انسان بناتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page