ماضی اور حال
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۱۹
ماضی اور حال
احیاءِ ملت کے سلسلے میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دوبارہ زندہ ملت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اُن کو ان کا ماضی یاد دلا یا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ اقوام وملل کی تاریخ اِس بات پر گواہ ہے کہ جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جائے، وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر پاتی۔ اِس نقطہ نظر کے مطابق ، موجودہ مسلمانوں کا احیاء نو اس لیے نہیں ہوا کہ اس کے رہنماؤں نے اُن کا رشتہ ماضی سے نہیں جوڑا۔
یہ ایک خلاف واقعہ بات ہے۔ حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ پچھلے دو سو سال میں پوری مسلم دنیا میں جو ر ہنما اُٹھے ، اُن سب نے بلا استثنا یہی ایک کام کیا کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے ماضی کی تاریخ مبالغہ آمیز انداز میں یاد دلائی، تا کہ حال میں انھیں اس گزری ہوئی تاریخ کے اعادے پر ابھارا جائے۔ مگر عملاً یہ تد بیر سرا سر نا کام رہی۔ اس سلسلے میں مسلم رہنماؤں کی تمام کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ ایسی حالت میں اصل سوال ماضی کی تدبیر پر نظر ثانی کرنے کا ہے، نہ کہ مذکورہ قسم کی پر جوش تحریر و تقریر کرنے کا ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی کے تمام مسلم رہنما تقريباً وہی بات کہہ رہے ہیں جس کی ایک مثال مذکورہ نقطہ نظر میں پائی جاتی ہے۔
ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے فقدان نتیجہ کو فقدانِ عمل کے ہم معنی سمجھ لینا، کیوں کہ پچھلی دو سو سالہ کوششوں کا کوئی مطلوب نتیجہ نہیں نکلا، اس لیے ہمارے رہنما مزید بے شعوری کا ثبوت دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کے لیے مطلوب عمل نہیں کیا گیا۔ اس معاملے میں رہنماؤں کی اصل غلطی یہ ہے کہ اُن کی تشخیص درست نہ تھی، کسی قوم کی تعمیر کا راز یہ ہے کہ اس کو حال سے باخبر کیا جائے۔ ماضی کی کہانیاں سنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ماضی کی کہانیوں سے صرف فرضی فخر (false pride) کا مزاج بنتا ہے، جب کہ حال کے بارے میں با شعور ہونے سے عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، یعنی وقت کے چیلنج کو سمجھنا اور اس کے مطابق ، منصوبہ بند جد و جہد کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues