Al-Risala · April 2014 · page 23

مسلم سیرت نگار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳

(محمد) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں میں حاضرا آخرم یہ پہنچ تھی۔

(مجھ کو) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرکارِ اقدس میں، جہاں وہ سب سے آخر میں پہنچے تھے، سب سے اول پہنچایا‘‘(صفحہ 28)

مولا نا شبلی نعمانی اور مولا نا سید سلیمان ندوی دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ دونوں نے سیرتِ رسول کے موضوع پر اپنی زندگیاں وقف کردیں، لیکن عجیب بات ہے کہ دونوں میں سے کسی نے بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھا کہ رسول اللہ کی اصل حیثیت یہ تھی کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچانے والے تھے۔ وہ تمام انسانیت کے لیے بشیر و نذیر تھے۔ رسول اللہ کے ساتھ محبت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ کی سنت دعوت کو زندہ کیا جائے، لیکن مولا نا شبلی نعمانی اور مولا نا سید سلیمان ندوی دونوں جذبہ محبت کے باوجود جذبہ دعوت سے خالی رہے۔

یہی دوسرے مسلم علما اور مسلم رہنماؤں کا حال ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی حد تک تعلق کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ اس بات سے بے خبر رہا کہ رسول اللہ سے تعلق کا اصل تقاضا کیا ہے، وہ بلاشبہ یہی ہے کہ رسول اللہ کی سنت دعوت کو زندہ کیا جائے اور ہر دور کے انسانوں کو اس کا مخاطب بنایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ کے دعوتی مشن کو ہر دور میں زندہ رکھا جائے ۔ یہی دعوتی فریضہ ہے جس کو نہ مسلم سیرت نگاروں نے سمجھا اور نہ اُس کے لیے کوئی کام کیا۔

نیا ہندی ترجمہ قرآن ہندی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دو ترجمے شائع ہو چکے ہیں — ایک، قرآن کا آسان ہندی ترجمہ۔

دوسرا، قرآن کا خالص ہندی ترجمہ۔ یہ نیا ترجمہ قرآن خاص طور پر غیر مسلم حضرات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page