مسلم سیرت نگار
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲
دوسری چیزیں ملتی ہیں اور اس کو وہ نمایاں طور پر بیان کرتے ہیں۔ مثلاً مصر کے حسین ہیکل کے ذہن پر مستشرقین کی باتوں کا غلبہ تھا چنانچہ سیرت کے موضوع پر ان کی عربی کتاب ’حیات محمد کا تقریباً نصف حصہ مستشرقین کے جوابات پر مشتمل ہے۔
تقریباً یہی معاملہ دوسرے مسلم سیرت نگاروں کا ہے۔ جنھوں نے فخر کی نفسیات کے تحت سیرت کا مطالعہ کیا، انھوں نے سیرت کو فخر کے انداز میں بیان کیا۔ جو مولفین سیاسی ذہن کے مالک تھے، انھوں نے سیرت کو سیاست و حکومت کے نمونہ (pattern) پر ڈھال دیا۔ جو لوگ فقہی مسائل کو اہمیت دیتے تھے، انھوں نے رسول اللہ کی سیرت کو ایک قسم کی فقہی سیرت بنا دیا۔ جو لوگ کرامات اور معجزات کا مزاج رکھتے تھے، انھوں نے سیرت رسول کو اس طرح مرتب کیا کہ سیرت کی کتاب کرامات اور معجزات کا مجموعہ بن گئی۔ جہاں تک دعوت کا سوال ہے، وہ جزئی طور پر نسبتاً غیر اہم انداز میں ضرور موجود ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ قاری جب سیرت کی کتاب کو پڑھ کر ختم کرے تو اس کے اندر یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ میرے لیے پیغمبر اسلام کی پیروی کا سب سے بڑا خار جی میدان یہ ہے کہ میں آپ کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچاؤں۔ دوسری قوموں کو مدعو سمجھوں اور ان کے خلاف شکایتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ پوری خیر خواہی کرتے ہوئے پیغام رسانی کا کام انجام دوں۔ ڈاکٹر سید سلمان ندوی کی معلوماتی تقریر میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولا نا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے اپنے مرض الموت کے آخری دنوں میں اپنے شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی کو بلا یا اور ان سے کہا کہ سیرت میری تمام عمر کی کمائی ہے۔ سب کام چھوڑ کر سیرت تیار کرو ۔ ‘‘ (صفحہ (28) - مولانا شبلی نعمانی کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عقیدت تھی، اس کا اظہار ان کی کتاب ’’سیرت النبی‘‘ میں سرنامہ کے ان الفاظ سے ہوتا ہے: ایک گدائے بے نوا شہنشاہ کونین کے دربار میں اخلاص وعقیدت کی نذر لے کر آیا ہے: چشم آستیں بردار گوہر راتما شا کن ! مولا نا سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ’’حیات شبلی‘‘ میں استاذ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’انھوں نے اپنی زندگی میں اور اپنی زندگی کے بعد بھی بہ شکل وصیت اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues