Al-Risala · April 2014 · page 28

متوازی عمل

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸

اسی طرح اسلام میں اجتماعی نظام کو شوری (42:38) کے تابع کیا گیا تھا، یعنی کسی خارجی معیار کے بجائے لوگوں کی عمومی رائے کی بنیاد پر اجتماعی نظام کا فیصلہ کرنا۔ لیکن بعد کے زمانے میں قدیم خاندانی حکمرانی (dynasty) کا طریقہ واپس آ گیا۔ شخصی حکمرانی کا یہ ذہن بعد کے زمانے کے مسلمانوں پر اتنا زیادہ غالب ہوا کہ اگر کسی مسلم ملک میں بظاہر جمہوریت کو اختیار کیا گیا تو وہ بھی عملاً آمریت(dictatorship) بن کر رہ گئی۔

اسی طرح اسلام میں قدیم تصور کے برعکس، مذہبی آزادی کو اختیار کیا گیا، لیکن چند نسلوں کے بعد عملاً اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس کے مظاہر آج بھی مسلمانوں کے اندر مختلف صورتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرقہ وارانہ تشدد، تکفیر کے فتوے، مرتد اور شاتم رسول کے لیے سزائے قتل، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام مظاہر بلاشبہہ قدیم زمانے کے مذہبی جبر کی نئی صورتیں ہیں۔

متوازی عمل

امت مسلمہ کے بعد کے دور میں یہ تمام خرابیاں اس لیے پیدا ہوئیں کہ اسلام کی انقلابی اصلاحات کے حق میں فکری بنیاد موجود نہ تھی۔ اسلام نے مذہب کو دوبارہ اس کی اصل خدائی صورت میں زندہ کیا، لیکن زمانی عامل (age factor) ان اصلاحات کے موافق نہ تھا۔ قانون فطرت کے مطابق، فکری بنیاد اچانک وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ لمبے تدریجی عمل کے بعد وجود میں آتی ہے۔ یہ نہایت مشکل منصوبہ ہے، کیوں کہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے اس کو وجود میں لانا پڑتا ہے۔ اس لیے اللہ نے اس منصوبے کو ظہور میں لانے کے لیے تاریخ میں ایک متوازی عمل (parallel process) جاری کیا۔ فکری بنیاد کو ظہور میں لانے کا یہ متوازی عمل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس عمل کا آغاز پیغمبر اور اُن کے اتباع (followers) نے کیا اور آخر کار اس کی تکمیل ہزار سال بعد اہل مغرب کے ذریعے انجام پائی۔

استبدال قوم

قرآن میں فطرت کے جو قوانین بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ایک قانون وہ ہے جس کو

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page