Al-Risala · April 2014 · page 29

استبدال قوم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹

استبدال (replacement) کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت کے الفاظ یہ ہیں: ﴿وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ﴾ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے:

If you turn back, He will bring in your place another people, who will not be like you. استبدال قوم کا یہ قانون فطرت کا ایک عمومی قانون ہے۔ اس کا تعلق مذہبی قوم سے بھی ہے اور غیر مذہبی قوم سے بھی۔ اسلام کی انقلابی اصلاحات کے لیے جس فکری بنیاد کی ضرورت تھی، اس کو مسلمان پورے طور پر وجود میں نہ لا سکے۔ مسلمان بعد کے زمانے میں قدیم مذہبی تصورات کے زیر اثر آچکے تھے۔ اس بنا پر وہ اس مقصد کے لیے اہل نہ تھے۔ چناں چہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ اس متوازی رول کا ذریعہ وہ ایک ایسی قوم کو بنائے جو اس عمل کو اس کی تکمیل تک پہنچا سکے۔ اہل مغرب کا تائیدی رول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کے طور پر یہ بات بتادی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک سیکولر قوم سے دین کی تائید کا کام لے گا (إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر)۔ اہل مغرب کی تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ بتاتا ہے کہ اہل مغرب نے جو تہذیب برپا کی اور جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ سیکولر مغرب کے ذریعے اسی تائید دین کی مثال ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب کے ذریعے جو نئے علوم اور نئے حالات پیدا ہوئے، وہ اپنے عملی نتیجے کے اعتبار سے، اسلام کے حق میں فکری بنیاد فراہم کرنے والے تھے، تاکہ رسول اور اصحاب رسول کا جاری کردہ عمل اپنے تکمیلی مرحلے تک پہنچ سکے۔ اس تکمیلی عمل کے چند پہلو یہاں بیان کیے جاتے ہیں:

1۔ جدید تہذیب کے تحت جو میڈیکل سائنس وجود میں آئی، اس نے تاریخ میں پہلی بار اُس نظریے کو ختم کر دیا جس کو سوچنے والا دل (thinking heart) کہا جاتا تھا۔ اب یہ پوری طرح

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page