خلافت کا تصور
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
اصل یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے ایک کامل مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے، پہلا انسان اتناہی کامل تھا، جتنا کہ اکیسویں صدی کا انسان۔ لیکن جس سیارہ ارض (planet earth) پر انسان کو بسایا گیا، وہاں تمام چیزیں موجود تھیں، لیکن یہ چیزیں زیادہ تر بالقوہ (potential) طور پر موجود تھیں ۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ اس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنائے ۔ پوری انسانی تاریخ اس معاملے کی تصویر ہے۔ وہ بالقوہ سے بالفعل کی طرف سفر کر رہی ہے۔ اس سفر کے لیے انسانی زبان میں سب سے زیادہ موزوں لفظ تہذیب ہے۔ پوری انسانی تاریخ، آدم سے لے کر قیامت تک ، اسی تہذیبی سفر کا دوسرا نام ہے۔ خالق نے کرہ ارض کو تہذیب کے مقام یا مقر (abode of civilization) کے طور پر بنایا۔ انسان کا کام یہ تھا کہ وہ اس پوٹینشیل تہذیب (potential civilization) کو ایکچول تہذیب (actual civilization) کی صورت میں ڈیولپ کرے۔ اسی رول کو انجام دینے والے کا نام خلیفہ ہے، خواہ وہ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان۔ تہذیب کا لفظ عام طور پر مادی ترقی کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ معروف تصور کے مطابق، تہذیب کا مطلب ہے ۔ سوشل کلچرل اور سائنٹفک ترقی کا اعلی مرحلہ۔ مگر تہذیب کی یہ تعریف ایک محدود تعریف ہے۔ تہذیب کے تصور کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے پس منظر میں دیکھا جائے۔ چوں کہ تہذیب کے معمار خود سے کوئی چیز تخلیق نہیں کرتے، وہ خالق کے پیدا کردہ ذرائع (natural resources) یا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے تہذیب کا سفر جاری کرتے ہیں۔ گویا کہ تہذیب کے تمام انسانی معمار، خالق کے کارندے ہیں۔ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو واقعے کی صورت دے رہے ہیں۔
تہذیب کا یہ سفر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ربانی تہذیب کا سفر ہے۔ وہ انسان کو اُس منزل کی طرف لے جانے والا ہے جہاں وہ حمد الہی اور شکر خداوندی کا اعلی تجربہ کرے، جہاں وہ ربانی معرفت کے اعلی مراتب کو حاصل کر سکے۔ مگر یہ کام چوں کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے، اس لیے لوگ اس کی معنویت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ تہذیب کے اس سفر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues