Al-Risala · January 2014 · page

خلافت کا تصور

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

آدمی انسانی آزادی سے پیدا ہونے والی خرابیوں (evils) کو الگ کر کے یہ دیکھ سکے کہ خدا کس طرح انسانی تاریخ کو پہنچ کر رہا ہے۔ انسانی تاریخ کو بامعنی طور پر سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ مبصر، انسانی عنصر کو الگ کر کے تاریخ میں عمل کرنے والے خدائی عنصر کو دیکھ سکے۔ ایک جائزہ اللہ نے انسان کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ انسان خود سے چیزوں کو دریافت کرے، وہ اپنے اندر ایک خود تعمیر کردہ شخصیت (self-developed personality) بنائے ۔ انسان کبھی اپنی آزادی کو صحیح استعمال کرتا ہے اور کبھی غلط استعمال۔ لیکن اللہ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعے تاریخ کو پہنچ کرتے ہوئے اُس کو اُس منزل کی طرف لے جا رہا ہے جو اس کی اصل منزل ہے، یعنی معرفتِ خداوندی (realization of God) کی تکمیل ۔

اللہ نے انسانیت کے آغاز سے پیغمبروں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری کیا، وہ اس لیے تھا کہ پیغمبر، انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کریں اور یہ کوشش کریں کہ انسانی تہذیب کا سفر صحیح رخ (right direction) میں جاری رہے۔ مگر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو استعمال کرنے میں زیادہ ذمے دار ثابت نہیں ہوا۔ بہت جلد ایسا ہوا کہ تاریخ عمومی طور پر توحید کے راستے سے ہٹ کر شرک کے راستے پر چل پڑی ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان نے پایا کہ پیغمبر جس اللہ کی خبر دے رہے ہیں، وہ اللہ اس کو دکھائی نہیں دیتا، البتہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوقات ہر طرف دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے نہ دکھائی دینے والے خدا کو چھوڑ کر، دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا خدا سمجھ لیا۔ یہ واقعہ کس طرح ہوا، اس کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے: هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ (6:78) یعنی ہر وہ چیز جو بظاہر بڑی (great) دکھائی دے، اس کو خدا یا شریکِ خدا سمجھ لینا۔ اسی سے قدیم تاریخ میں شرک کی وہ صورت پیدا ہوئی جس کو مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتا ہے۔ فطرت پرستی کا یہ نظریہ لوگوں میں بہت مقبول ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلے زمانے کے تمام بادشاہ فطرت پرستی کو اپنے لیے موزوں (convenient) سمجھ کر اس مذہب کی سرپرستی کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page