Al-Risala · April 2014 · page 39

بحران کے وقت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۹

بحران کے وقت

16 مئی 2011 کا واقعہ ہے۔ کیتھے پیسفک ائرویز (Cathay Pacific Airways) کا ایک جہاز (330, Airbus) سنگاپور سے جکارتا (انڈونیشیا) جا رہا تھا۔ اس جہاز میں 136 مسافر سوار تھے۔ راستے میں جہاز کے ایک انجن میں آگ لگ گئی۔ پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ واپس لا کر سنگاپور میں اتار دیا۔

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (17 مئی 2011) میں اس خبر کو دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایک مسافر نے گھبرا کر جہاز کی کھڑکی کے باہر دیکھا۔ وہ چلایا کہ ــــ میں آگ دیکھ رہا ہوں، میں آگ دیکھ رہا ہوں۔ ہمارے پیچھے بیٹھے ہوئے مسافر یہ دعا کر رہے تھے ــــ خدایا، ہمارے جہاز کو بچا۔ خدایا، ہم کو اپنی حفاظت عطا فرما:

‘I see fire! I see fire! ’ “Behind us, passengers were praying: ‘God, save our flight! Give us your protection! ’”

(The Times of India, New Delhi, May 17, 2011)

تجربہ بتاتا ہے کہ آدمی جب کسی بحرانی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے، جب وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ پیش آمدہ صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل عاجز (helpless) ہے۔ اُس وقت وہ بے تابانہ طور پر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس کی ایک مثال مذکورہ واقعے میں ملتی ہے۔ اس طرح کے بحران (crisis) کے واقعات آدمی کی زندگی میں بار بار پیش آتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا تصور انسان کی فطرت میں پیوست (interroven) ہے۔ ہر انسان کو امکانی طور پر (potentially) خدا کی معرفت حاصل ہے۔

دعوت الی اللہ کا مقصد اسی امکان کو واقعہ بنانا ہے۔ دعوت انسانی شخصیت کے الگ کوئی چیز نہیں، وہ اس کی اپنی شخصیت ہی کا ایک حصہ ہے۔ اسی لیے آدمی جب اپنی اس فطرت کو دریافت کر لیتا ہے تو وہ توحید کی دعوت کو اس طرح قبول کر لیتا جیسے کہ وہ اس کی اپنی چیز تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page