انتظار نہیں
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۳۸
انتظار نہیں
ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ مجھے الرسالہ کے دعوتی نقطہ نظر سے مکمل اتفاق ہے۔ میری عمر 63 سال ہے۔ میرے پانچ بچے ہیں۔ دعا کیجئے کہ میں اپنے بچوں کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاؤں۔ اس کے بعد میرا ارادہ ہے کہ میں اصحاب صفہ کی طرح اپنی زندگی کا ہر لمحہ بالکل دین کی خدمت میں گزاروں گا۔
یہاں اصحاب صفہ کا حوالہ درست نہیں۔ اصحاب صفہ نے ایسا نہیں کیا تھا کہ پہلے وہ اپنی اولاد کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوئے۔ اُس کے بعد وہ دین کی خدمت میں لگ گئے۔ اس کے برعکس، اصحاب صفہ کا معاملہ یہ تھا کہ جب انہیں سچائی کی دریافت ہوئی تو فوراً ہی انہوں نے اپنی زندگی سچائی کے لیے وقف کر دی۔ انھوں نے اپنی دنیوی ذمہ داریوں کو اللہ پر ڈال دیا اور اپنے آپ کو دین کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے وقف کر دیا۔
دریافت حق میں کوئی انتظار نہیں ہوتا۔ جس آدمی کو حق کی دریافت ہو جائے، وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کسی عذر (excuse) کو لے کر انتظار کی پالیسی اختیار کرے ۔ حق کی دریافت کے بعد وہ فی الفور اپنے آپ کو حق کے راستے پر ڈال دے گا۔
اس معاملے میں جو شخص کسی عذر کا حوالہ دے یا وہ انتظار کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہو، اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اُس نے ابھی حق کو پایا ہی نہیں۔ اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے حق کو پا لیا ہے۔
حق بلاشبہ تمام چیزوں میں سب سے بڑی چیز ہے۔ حق کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اُس چیز کو دریافت کر لیا جو اس کے لیے سب سے بڑی چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا انسان عذر کو بھول جائے گا۔ انتظار کی پالیسی اختیار کرنا اُس کو ایسا لگے گا جیسے اُس نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues