Al-Risala · April 2014 · page 43

تہذیب کے دو دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۳

آخرت کی دنیا میں اس کا اظہار کامل صورت میں ہوگا۔

قرآن یہ خوش خبری دیتا ہے کہ انسانی تہذیب کا سفر ادھورا نہیں رہے گا، بلکہ وہ مزید ترقی کے ساتھ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ارتقا کا جو موقع انسان کو حیات دنیا میں نہیں ملا تھا، وہ آخرت کی زندگی میں مزید اضافے کے ساتھ اس کو حاصل ہو جائے گا۔

تہذیب کے دو دور

تہذیب کے دو دور جن کا ذکر اوپر کیا گیا، اُن کا حوالہ قرآن میں صراحتاً موجود ہے۔ تہذیب کا پہلا دور جو قوانینِ فطرت کی جزئی دریافت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ظہور میں آئے گا، اس کا ذکر قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں (signs) دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح آشکارا ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں قوانینِ الہیہ پر مبنی تہذیب کے اُس دور کا ذکر ہے جو موجودہ دنیا میں پیش آنے والا تھا۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سائنس کے ظہور کی صورت میں واقعہ بن چکی ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ آفاق وانفس میں جو خدائی نشانیاں (signs of God) موجود تھیں، اُن کو جزئی طور پر دریافت کیا اور اس طرح انسان کے لیے تبیینِ حق کے نئے مواقع کھول دئے ۔ ان دریافتوں کے ذریعے انسان کو ایک نیا فریم ورک (framework) ملا۔ اس کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ انسان خالص علمی اور عقلی سطح پر اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ قوانینِ الہیہ پر مبنی تہذیب کا دوسرا عظیم تر ظہور آخرت کے دورِ حیات میں پیش آئے گا۔ تہذیب کے اس دوسرے دور کو ربانی تہذیب کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور اپنے تمام کمالات کے ساتھ ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس دوسرے دور تہذیب کا ذکر قرآن کی سورہ الکہف میں ان الفاظ میں آیا ہے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page