Al-Risala · April 2014 · page 44

تہذیب کے دو دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴

تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:107-109) یعنی بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اسی کی مانند اور سمندر ملا دیں۔

قرآن کی ان آیات پر غور کیجیے۔ سب سے پہلے فرمایا کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیا‘، یعنی جن لوگوں نے دریافت کی سطح پر اللہ کی معرفت حاصل کی اور پھر اس معرفت کے مطابق، اپنی عملی زندگی کو ربانی زندگی بنا دیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ”اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے‘‘، یعنی آخرت میں اُن کو اللہ کے آفاقی گیسٹ ہاؤس (universal guesthouse) میں ابدی طور پر رہنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے نکلنا نہ چاہیں گے‘‘۔

انسان کا مزاج یہ ہے کہ اگر اس کو یکساں قسم کی مادی نعمتیں دی جائیں تو یہ نعمتیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، کچھ دنوں کے بعد وہ ان کی یکسانیت کی بنا پر بورڈم (boredom) کا شکار ہو جائے گا، وہ اُن سے محظوظ نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ’’وہ جنت سے نکلنا نہ چاہیں گے‘‘۔ اس طرح کی کیفیت پیدا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اہل جنت کو مادی نعمتوں کے سوا ایک اور چیز حاصل ہو اور وہ ہے— بار بار نئی چیزوں کا ملنا، بار بار نئی دریافتوں کا تجربہ پیش آنا، مسلسل طور پر فکری ارتقا کا جاری رہنا جن کی بنا پر اہل جنت کی تخلیقیت (creativity) کبھی ختم نہ ہوگی۔ اہل جنت کی شخصیت میں یہ ارتقا معرفت خداوندی میں ارتقا کے ذریعے پیش آئے گا۔

جنت میں تخلیقی سرگرمیوں (creative activities) کے جو اتھاہ مواقع ہوں گے، اُن کو آیت کے اگلے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے اہل جنت کے ذریعے ’کلمات اللہ‘ کی ابدی ان فولڈنگ (eternal unfolding)— قرآن کے مطابق ’کلمات اللہ‘ کی تعداد لا محدود ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues

Printed page