Thus my inner sight speaks.
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۵۰
آپ کی تشریحات سے ملتا اور زندگی کے روز مرہ واقعات سے دنیا و آخرت کی گہری حقیقتوں کی یاد دہانی کو جو داعیہ بیدار ہوتا ہے اور اس کے علاوہ عمل وکردار و اخلاق سے متعلقہ دیگر فوائد جو میسر آتے ہیں، اُس پر میں بس بارگاہ رب العزت میں یہ دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو پوری امت وملت و انسانیت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
دسمبر 2013 کا الرساله دیکھا۔ اُس میں صفحہ 7 پر یہ تذکرہ ہے کہ ابو بکر صدیق نے صحابہ کے مشورے سے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں تیار کرانے کے لیے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت کو مقرر کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر موریس بکائی کے الفاظ میں ڈبل چیکنگ سسٹم کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے پورا قرآن مرتب کیا۔ کتابت قرآن کی تکمیل کے بعد ان اوراق کی ایک جلد بنائی گئی ۔ یہ جلد چو کور صورت میں تھی ، اس لیے اس کا نام ربعہ رکھا گیا، یعنی چو کور سائز کی کتاب۔ اس ربعہ کا ایک مستند نسخے کے طور پر حضرت حفصہ کے گھر رکھوادیا گیا۔ اس ربعہ کی تیاری کے لیے قرآن کے جو متفرق اجزا اکھٹا کیے گئے تھے ، اُن کا ایک ڈھیر مسجد نبوی میں موجود تھا۔ صحابہ کے مشورے سے اس پورے ڈھیر کو اُس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا، بلکہ اُن سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔
اس کے بعد صفحہ 8 پر حضرت عثمان کے زمانے میں اختلاف قرأت کا حوالہ آیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحابہ نے بطور خود لکھ کر قرآن کے اپنے اپنے مجموعے تیار کررکھے تھے جن میں بہت سے فرق موجود تھے۔ ان نسخوں کی وجہ سے حضرت عثمان کے زمانے میں قرأت قرآن کے بارے میں لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ کوئی شخص ایک انداز سے قرآن پڑھتا، اور کوئی شخص دوسرے انداز سے۔ اس لیے حضرت عثمان نے ابو بکر صدیق کے زمانے کا تیار کردہ مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر سے منگوایا۔ اُس کی بہت سی نقلیں تیار کرائیں۔ مسلم ممالک کے مرکزی شہروں میں قرآن کی یہ مستند نقلیں اور معیاری نسخے بھجوائے اور پھر صحابہ کے جمع کردہ نسخوں میں قرأت قرآن میں فرق کا جو مسئلہ موجود تھا ، اُس کا حل یہ نکالا کہ ان تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکٹھا کروایا اور پھر صحابہ کی موجودگی میں اُن کو جلا کر ختم کر دیا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی رائے میں اختلافِ قرأت کا مسئلہ ہے کیا ؟ ہمارے ہاں اس
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues